تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 39
تاریخ احمدیت۔جلد 26 39 سال 1970ء اور بہت سے دیگر احباب قطاروں میں کھڑے تھے حضور نے بعض احباب کو مصافحہ اور معانقہ کا شرف بخشا جس کے بعد اجتماعی دعا کرائی۔دعا کے بعد حضور اور حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کار میں سوار ہو کر صبح چھ بج کر ۲۵ منٹ پر عازم لاہور ہوئے اس موقع پر اجتماعی اور انفرادی طور پر کثرت سے صدقات دیئے گئے۔اس تاریخی سفر پر محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ و وکیل التبشیر بھی حضور کی معیت میں تشریف لے گئے ( آپ ایک روز قبل ہی انتظامات سفر کی نگرانی کے لئے لاہور روانہ ہو گئے تھے ) جن دیگر احباب کو حضور کی معیت میں جانے کا فخر حاصل ہوا ان میں چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ پرائیویٹ سیکرٹری ، پروفیسر چوہدری محمد علی صاحب ایم اے اور محمد سلیم ناصر باجوہ صاحب شامل تھے۔33 - لاہور سے کراچی تک لاہور کے متعدد احباب نے لاہور سے ۱۶ میل ورے حضور کا خیر مقدم کیا جبکہ دیگر احباب، جن میں لاہور کے علاوہ متعدد دیگر مقامات کے دوست بھی شامل تھے بڑی تعداد میں محترم چوہدری اسد اللہ خان صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور کی کوٹھی ( واقع ایمکن روڈلاہور چھاؤنی ) میں حضور کے منتظر تھے۔حضور و بج کر ۲۵ منٹ پر محترم چوہدری صاحب کی کوٹھی میں پہنچے۔جہاں حضور نے احباب کے در میان ۱۵ منٹ رونق افروز ہو کر روح پرور ارشادات سے نوازا اور دعا کرائی۔دس بجنے میں دس منٹ پر حضور فضائی مستقر کی طرف روانہ ہوئے وہاں بھی کثرت سے احباب اپنے محبوب آقا کو الوداع کہنے کے لئے موجود تھے۔دس بج کر ہمیں منٹ پر حضور مع حضرت بیگم صاحبہ و دیگر ارکان قافلہ ہوائی جہاز کی طرف بڑھے جبکہ دور و یہ کھڑے ہوئے احباب در ددل اور رقت کے ساتھ خدا حافظ و ناصر ، بسلامت روی و باز آئی اور فی امان اللہ کے کلمات دہرا رہے تھے۔دس بج کر پچیس منٹ پر حضور ہوائی جہاز پر سوار ہوئے ، اگلے ہی لمحہ ہوائی جہاز حرکت میں آگیا اور کراچی کی جانب روانہ ہو گیا۔حضور انو رسم را پریل کو ہی دو پہر کے گیارہ بج کر پچپن منٹ پر کراچی پہنچے جہاں پر مقامی احباب کی بہت بڑی تعداد نے گرمجوشی کے ساتھ حضور کا استقبال کیا۔کراچی میں حضور نے انیس گھنٹے قیام فرمایا۔34