تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 40
تاریخ احمدیت۔جلد 26 40 سال 1970ء ۵ اپریل کی صبح کو جبکہ مقامی احباب بڑی تعداد میں حضور کو دعاؤں کے ساتھ الوداع کہنے کے لئے موجود تھے حضور ہوائی مستقر میں پہنچ گئے اور اجتماعی دعا کے بعد جہاز بوئنگ ۲ کی فلائٹ 271-P۔R پر صبح سات بج کر پینتیس منٹ پر مع ارکان قافلہ اس تاریخی سفر پر روانہ ہوئے۔تهران ، استنبول اور لنڈن میں مختصر قیام حضور پاکستانی وقت کے مطابق پونے نو بجے تہران پہنچے۔یہاں بھی بہت سے مخلص احمدی احباب پھولوں اور دعاؤں کے ہار لئے موجود تھے۔تہران سے استنبول کے لئے روانہ ہوئے۔دوبج کر دس منٹ پر حضور کا طیارہ استنبول میں رکا۔ایک ٹرکش نیوز ایجنسی کا نمائندہ وہاں موجود تھا۔اس نے پہلے تصاویر لیں پھر ادب کے ساتھ چند سوالات کے جوابات حاصل کئے۔جہاز استنبول سے جنیوا کے لئے روانہ ہوا۔اس وقت تین بجے شام (پاکستانی) کا وقت تھا۔۵ بج کر ۵۰ منٹ پر جہاز کے کپتان نے اعلان کیا کہ چونکہ جنیوا میں برفباری ہو رہی ہے اس لئے جہاز وہاں جانے کی بجائے سیدھالندن جائے گا۔سوا سات بجے شام (پاکستانی وقت) حضور لندن پہنچ گئے۔وہاں قریباً ایک گھنٹہ تو قف فرمایا۔پھر BOAC کی فلائٹ 724-BA پر حضور زیورک (سوئٹزر لینڈ ) روانہ ہو گئے۔امام مسجد لندن بشیر احمد صاحب رفیق کو جب حضور کی غیر متوقع تشریف آوری کا علم ہوا تو وہ لندن ائیر پورٹ پر حضور کی خدمت میں روانگی تک حاضر رہے۔زیورک میں تشریف آوری 35 پونے دس بجے شب جہاز زیورک پہنچ گیا۔حضور کا استقبال کرنے والوں میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور ڈاکٹر اطالو کی سی صاحب بھی شامل تھے۔مشن ہاؤس میں پاکستانی احمدی احباب کے علاوہ یوگوسلاویہ کے مخلص احمدی ڈاکٹر آصف صاحب بھی موجود تھے۔را پریل کو حضور نے متعدد احباب سے ملاقاتیں فرمائیں جن میں امام مشتاق احمد صاحب باجوہ ، والدہ ماجدہ ڈاکٹر عزیز الدین حسن صاحب و ڈاکٹر اسماعیل حسن صاحب (البانیہ کے مشہور شاہی خاندان کے چشم و چراغ) ڈاکٹر طا لو کیوسی صاحب، حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور شیخ اوی سانو ( نائیجیرین احمدی دوست ) بھی شامل تھے۔