تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 38
تاریخ احمدیت۔جلد 26 38 سال 1970ء اللہ تعالیٰ کے نام سے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہوئے میں انشاء اللہ تعالیٰ کل صبح مغربی افریقہ کے دورہ پر روانہ ہوں گا۔ربوہ اور آپ دوستوں کی اس عارضی جدائی سے طبیعت میں اداسی بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس فضل پر خوشی بھی ہے کہ وہ محض اپنی رحمت سے یہ توفیق عطا کر رہا ہے کہ ان اقوام کے پاس جا کر جو صدیوں سے مظلوم رہی ہیں اور جو صدیوں سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند مہدی معہود کے انتظار میں رہی ہیں اور جن میں سے استثنائی افراد کے علاوہ کسی کو بھی حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کی زیارت نصیب نہیں ہوئی۔پھر ان کے دلوں میں یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ آپ کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ ان تک پہنچے۔۔۔اور وہ خلیفة من خلفائہ کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں۔۔۔۔صدیوں کے انتظار کے بعد اللہ تعالیٰ نے چاہا تو انہیں یہ موقع نصیب ہوگا۔محبت اور پیار سے اپنے دن گزاریں اور صدقہ اور دعاؤں کے ساتھ میری مددکریں۔پھر میں کہتا ہوں کہ صدقہ اور دعا سے میری مدد کریں۔اللہ تعالیٰ جس غرض کے لئے اس سفر کے سامان پیدا کر رہا ہے وہ غرض پوری ہو۔۔۔اسی کے سہارے اور اسی پر توکل کرتے ہوئے اس یقین کے ساتھ میں اس سفر پر جارہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کرے گا کہ اسلام کے غلبہ کے دن جلد سے جلد آ جائیں۔خصوصی دعاؤں کے ساتھ الوداع 66 32 ۳ اپریل حضور نے نماز مغرب پڑھانے کے بعد مسجد مبارک میں سفر کی کامیابی کے لئے پُرسوز اجتماعی دعا کرائی جس میں اہل ربوہ ( بوڑھے، جوان، بچے ، عورتیں ) بڑی کثرت کے ساتھ شامل ہوئے۔یہ اجتماعی دعا ایک خاص شان کی حامل تھی۔احباب نے اس قدر خشوع و خضوع اور در دوالحاح کے ساتھ دعائیں مانگیں کہ مسجد مبارک دیر تک ہچکیوں اور سسکیوں سے گونجتی رہی۔بیرونی مقامات سے بھی بہت سے احباب اس اجتماعی دعا میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔ربوہ سے روانگی ۴ را پریل بروز ہفتہ سوا چھ بجے صبح حضور قصر خلافت سے باہر تشریف لائے جہاں بزرگان سلسلہ