تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 31
تاریخ احمدیت۔جلد 26 31 سال 1970 ء لئے پیدا ہوئے ہیں۔ہمیں کون مارسکتا ہے؟ ہمارے افراد جان کی قربانی دے دیں گے لیکن ہماری جماعت زندہ اور زندگی بخش ہے اس کا دوسرا نام ” آب حیات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے خود مشاہدہ کرتی اور دوسروں کو دکھاتی ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کے جلال کا عرفان رکھتی اور یہ عرفان دوسروں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔قرآن کریم کی عظمت کو بجھتی اور اس کے حسن کو جانتی اور جس رنگ میں اس نے بنی نوع انسان پر احسان کیا ہے اس کی معرفت رکھتی ہے اور یہ چاہتی ہے کہ یہی معرفت دوسروں کے اندر بھی پیدا ہو جائے۔ہم تو زندگی کا پانی ہیں ہمیں موت کا گھونٹ کون پلا سکتا ہے۔دنیا میں نہ کسی ماں نے ایسا بچہ جنا اور نہ کوئی ماں ایسا بچہ جنے گی جو اس میں کامیاب ہو جائے ہم نے ساری دنیا کو زندہ کرنا ہے ہمیں ظالم اور مفسد تلوار یا توپ یا ایٹم بم سے کوئی خوف نہیں ہے یہ سارے مجبور ہوں گے کہ ہماری طرف آئیں۔دوران مشاورت جن احباب کرام کو سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی زیر ہدایت، فرائضِ 28 صدارت میں حضور کا ہاتھ بٹانے کا شرف حاصل ہوا ان کے نام یہ ہیں:۔مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ سابق صوبہ پنجاب و بہاولپور، شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعت ضلع لائل پور، چوہدری انور حسین صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت ضلع شیخوپورہ، رانا محمد خاں صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ ضلع بہاولنگر۔حضور نے پرنٹنگ پریس کی ذمہ داری پاکستان کی احمدی جماعتوں پر اور براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کے قیام کی ذمہ داری بیرونی ممالک پر ڈالی اور ان دونوں اہم کاموں کی تکمیل کے لئے خصوصیت سے دعائیں کرنے اور اس ضمن میں عائد ہونے والے فرائض کی بجا آوری کے لئے تیار رہنے کی تلقین فرمائی۔پرنٹنگ پریس کے سلسلہ میں اپنے پیارے آقا کی پُر جوش تحریک پر ارکان شوری نے والہانہ طور لبیک کہا اور شوری کے دوران بہت سے وعدہ جات اور رقوم کے چیک حضور کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔سب سے بڑا وعدہ الحاج محمد یعقوب صاحب امیر جماعت احمدیہ سیالکوٹ کا تھا جنہوں نے دس ہزار روپے کا چیک مقدس امام کے حضور میں پیش کیا۔