تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 32
تاریخ احمدیت۔جلد 26 32 سال 1970ء مبشرین احمدیت کو قیمتی ہدایات مولانا غلام احمد صاحب بدوملہی اور مولانامحمد صدیق صاحب امرتسری جزائری کے لئے روانہ ہونے سے قبل ۲ اپریل ۱۹۷۰ء کو سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔اس ملاقات میں مولانا فضل الہی صاحب بشیر اور مولوی صدیق احمد صاحب منور اور بعض دیگر مبلغین بھی موجود تھے۔حضور نے اس موقع پر نہایت بیش قیمت ہدایات دیں اور فرمایا کہ ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو دعا گو بھی ہوں اور بے نفس بھی۔دین کی خدمت کو وہ ایسے بے لوث رنگ میں انجام دیں کہ ان کا نفس درمیان میں نہ آئے اور وہ ہر لمحہ اپنے کام میں کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے والے ہوں۔حقیقی معنوں میں صرف ایسے ہی مربی کامیابی کا منہ دیکھتے ہیں۔ان کے اخلاص اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کی بناء پر ان کے کاموں کا رنگ ہی مختلف ہوتا ہے۔انہیں نہ نام ونمود سے غرض ہوتی ہے اور نہ اپنی تشہیر سے۔اب دنیا کے حالات پہلے کی نسبت بہت مختلف ہیں۔پہلے ہمیں تبلیغی میدان میں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا تھا جو کسی نہ کسی مذہب کو ماننے والے ہوتے تھے اور ان کے لئے مذہبی اقدار کچھ نہ کچھ اہمیت ضرور رکھتی تھیں۔انہیں دلائل دے کر منوانا پڑتا تھا کہ اسلام کے عقائد اور ان کے عقائد سے پیدا ہونے والے اعمال ان کے مذہب کے عقائد اور ان سے پیدا ہونے والے اعمال سے بدرجہا بہتر ہیں۔لیکن اب ہمارا حقیقی مقابلہ دہریت سے ہے۔دہر یہ لوگ تو نہ صرف کسی مذہب کے پیروکار نہیں بلکہ وہ سرے سے خدا ہی کو نہیں مانتے اس لئے منقولی دلائل کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نشانات اور صرف نشانات ہی ان پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود نہ تو نشان دکھا سکتے ہیں اور نہ ان کا کسی اور رنگ میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔اور یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے والی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانات صرف ان لوگوں کو عطا کئے جاتے ہیں جو بے نفس ہوں اور جو ہرلمحہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے ہوں۔ملاقات کے دوران حضور نے مسئلہ مجددیت و خلافت کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ حقیقت خاص طور پر واضح فرمائی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ کسی مجدد نے یہ نہیں کہا کہ اس نے صرف اور صرف خدا تعالیٰ ہی سے علم حاصل کیا ہے تمام مجددین نے کسی نہ کسی سے علم سیکھا۔درآنحالیکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے علم حاصل کیا۔اس کے علاوہ یہ بات بھی