تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 385
تاریخ احمدیت۔جلد 26 385 سال 1970ء یہ سب و فود جو تحقیق حق کے لئے مشن ہاؤس میں پہنچے انہیں میٹنگ ہال میں بٹھا کر تقاریر کے ذریعہ ان کی معلومات میں اضافہ کیا گیا۔ملک کی تنظیموں، سوسائٹیوں، سکولوں اور کالجوں نے مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل کو تقاریر کے لئے مدعو کیا جن میں ایک کے سوا آپ نے دور دراز تک کا سفر کر کے پیغام حق پہنچایا۔19 جنوری ۱۹۷۰ء کو بہائیوں کے زیر انتظام ایپل ڈورن (Apeldoorm ) میں بین المذاہب کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں اکمل صاحب نے اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے کامیاب لیکچر دیا اور بہائیوں کے سوالوں کے مدلل جواب دئے جن پر ایک ترک امام نے خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے نہایت عمدہ رنگ میں اسلام کی نمائندگی کی ہے اور ہمیں بڑی خوشی ہے کہ آپ نے ہماری عزت رکھ لی ہے۔اس کا نفرنس کے علاوہ آپ نے مندرجہ ذیل شہروں میں لیکچر دیئے: سلیکر ویر (Slikkerver)۔روٹرڈم۔بیوروجک (Beverwijk) اور گوڑا (Gouda)۔مشن نے ترک اور مراکش مسلمانوں کے مختلف مسائل اور معلومات میں مدد کی۔ایک مسئلہ ہالینڈ میں دیر سے قابل حل تھا۔مسلمانوں کو ابھی تک اپنے انتظام کے تحت با قاعدہ اسلامی ذبیحہ کی قانونی اجازت نہ تھی۔مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل نے اس سلسلہ میں متعلقہ سرکاری محکمہ کو بذریعہ خطوط توجہ دلائی جس پر حکومت نے اجازت دے دی۔پہلی ششماہی میں ۷ را فراد بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔طوفان زدگان کے لئے عطیہ 64۔ہالینڈ کے احمدی احباب نے مشرقی پاکستان کے طوفان زدگان کے لئے سفارت خانہ پاکستان کے ایسٹ پاکستان ریلیف فنڈ میں ۴۱۷ گلڈز کا عطیہ دیا نیز سوئٹزرلینڈ کے احمدیوں نے ۲ ہزار فرانک کی رقم جمع کرائی۔65 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا پیغام عید ہالینڈ میں عید الاضحی مورخہ ۷ افروری ۱۹۷۰ء بروز منگل اسلامی شعار کے مطابق منائی گئی۔اس