تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 380 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 380

تاریخ احمدیت۔جلد 26 380 سال 1970ء تعلیم سے بھی آراستہ کرنا ہے نیز غریب طالب علموں کے لئے خاص سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں۔چنانچہ اس غرض کے لئے جماعت احمدیہ کثیر رقوم بطور امداد کالج پر خرچ کر رہی ہے۔سال کے شروع میں تمام طلباء کو مفت یو نیفارم مہیا کیا گیا۔کالج کی سالانہ مفصل رپورٹ پیش ہونے کے بعد جناب وزیر تعلیم صاحب نے اپنی صدارتی تقریر فرمائی۔جس میں آپ نے کالج کی سالانہ کارکردگی پر اظہار خوشنودی فرمایا اور کہا کہ جس روح اور مقصد کے ساتھ جماعت احمدیہ یہ تعلیمی ادارہ چلا رہی ہے وہ قابل تحسین ہے۔موصوف نے ہر طرح سے اپنی مدد کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اپنی مدد آپ کے اصول پر کار بند ہونے کی احمد یہ جماعت کی مثال یقینا دوسروں کے لئے قابل تقلید ہے۔نیز نو جوانوں کی عملی رنگ میں تربیت کا احمدیہ طرز طریق بھی بہت ہی قابل داد اور پسندیدہ ہے۔تقسیم انعامات کے جلسہ کی رپورٹ اخبارات کو بھجوائی گئی اور روزنامہ Advance میں اس کی باقاعدہ خبر شائع ہوئی۔ملائیشیا 62 61 مولوی بشارت احمد صاحب امروہی انچارج سبامشن نے یوم میلادالنبی کی تقریب پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے متعلق ایک مضمون لکھا جو روزنامہ سباٹائم میں شائع ہوا۔آپ نے جزیرہ لابوان اور مشرقی ساحل کے شہر سنڈا کن کا تبلیغی اور تربیتی دورہ کیا۔آپ کو ملک کے مختلف طبقوں تک پیغام حق پہنچانے کی توفیق ملی جن میں محکمہ پولیس محکم تعلیم ، میڈیکل ڈیپارٹمنٹ ، کالج ، سکول، کمپنیوں کے افسر اور ماتحت، ٹیچرز ، اکاؤنٹنٹ ، مسلم، عیسائی اور فری تھنکر وغیرہ شامل تھے۔ملاقاتوں کے علاوہ تقسیم لٹریچر کا سلسلہ بھی باقاعدگی سے جاری رکھا۔مکرم مولوی بشارت احمد صاحب امروہی مبلغ انڈونیشیا ملائیشیا میں تبلیغ اسلام رپورٹ ارسال کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ امسال ۱۹۷۰ء میں تبلیغ اسلام کی غرض سے ملائیشیا کے بعض پادری اور بعض حکومت کے اداروں پرائیویٹ کمپنیوں اور تجارتی اداروں میں کام کرنے والے افراد سے رابطہ کیا گیا۔بیر ڈیپارٹمنٹ کے ایک نوجوان کو قرآن اور ادعیہ الصلوۃ وغیرہ سبقأسبقاً پڑھانا شروع کیا۔ان کے ہمراہ ایک غیر مسلم خاتون نے بھی اسلام سے دلچسپی لیتے ہوئے ان اسباق کو درساً پڑھنا شروع کیا۔رسالہ ریویو آف ریلیجنز کو اس ملک کی لائبریریز میں بھجوایا گیا۔تو اؤ کا بھی تبلیغی دورہ کیا گیا اور ایک پادری سے عیسائی عقائد اور تعلیمات پر از روئے بائیبل گفتگو ہوئی۔63