تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 378
تاریخ احمدیت۔جلد 26 378 سال 1970ء لیفٹیننٹ بشیر الدین صاحب اور سب لیفٹینٹ مبشر احمد صاحب ابن ڈاکٹر محمد احمد صاحب) کے علاوہ باقی تقریباً سب پنجابی معزز مسلمان بھائی تھے قابل دید مقامات کی سیر کرائی اور ساحل سمندر پر واقع ایک خوبصورت بنگلے میں ظہرانہ پیش کیا جو روز ہل سے پکا کر ساتھ لے گئے تھے۔فوجی مہمان احمدی دوستوں کے خلوص، انتظام اور جذبہ مہمان نوازی سے بہت خوش اور متاثر ہوئے۔کھانے کے بعد مہمانوں کا یہ مبارک قافلہ وا پس روز ہل پہنچا۔مسجد احمد یہ دارالسلام جمعہ پر آنے والوں سے بھری ہوئی تھی۔احمدی دوست اتنا بڑا مجمع دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد کے جذبات سے معمور ہو گئے۔جماعت کی وسعت ان کے اندازہ سے کہیں بڑھ کر تھی۔غیر از جماعت دوستوں کے لئے نماز جمعہ کا انتظام سنی مسجد میں کیا گیا۔مسجد احمدیہ میں نماز جمعہ قریشی صاحب نے پڑھائی۔نماز جمعہ کے بعد یہ قافلہ اپنے بقیہ اور تاریخی سفر پر روانہ ہوا اور شام کو چھ بجے روز ہل پہنچ گیا۔جہاں پاکستان ہائی کمیشن کی طرف سے بحریہ کے ایڈ مرل صاحب اور دیگر افسران کے اعزاز میں دعوت دی گئی تھی۔قریشی صاحب کو اس تقریب میں جناب ایڈ مرل صاحب اور جہازوں کے کپتانوں اور دیگر افسروں سے ملاقات کرنے اور جماعت احمدیہ کا تعارف کرانے کا سنہری موقع ملا۔اگلے روز ( ۲ مئی ) کو قریشی صاحب کی بابر جہاز پر ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر تبادلہ خیالات ہوا۔انہوں نے جماعت احمدیہ کے متعلق فرمایا کہ آپ لوگ واقعی بہت کام کر رہے ہیں۔جماعت احمدیہ کی طرف سے اس روز تعلیم الاسلام احمد یہ کالج کے ہال میں معزز مہمانوں کے کھانے کا عمدہ انتظام تھا۔اس موقع پر قریشی صاحب نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پاکستان اور ماریشس کے جسمانی اور روحانی رشتوں پر مختصر ا روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ماریشس کی احمد یہ جماعت ہمیشہ پاکستان کی ممنون رہے گی کہ اس سے ماریشس کے لئے روحانیت کا چاند طلوع ہوا جس کی پُر نور شعاعوں سے وہ منور ہور ہے ہیں اور اسلام کی خدمت اور تبلیغ کو اپنا نصب العین قرار دے چکے ہیں۔ازاں بعد ید اللہ بنوں صاحب نے ایک مؤثر تقریر کی جس میں میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا کے خدائی وعدہ کے پورے ہونے کا ذکر کیا اور احمدیت کے ذریعہ رونما ہونے والے زبر دست روحانی انقلاب پر روشنی ڈالی جس نے احمدیوں کو ایک نئی زندگی عطا کی اور انہیں ایک عالمی اخوت سے منسلک کر کے پوری دنیا اور کل انسانیت سے پیار کرنا سکھلایا۔اس کے بعد معزز پاکستانی مہمانوں کی طرف سے لیفٹینٹ بشیر الدین صاحب نے جملہ معزز