تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 377
تاریخ احمدیت۔جلد 26 377 سال 1970ء کوشش سے ہفتے میں دوبار اسلامی پروگرام نشر ہونے لگا اور دوسری مسلمان تنظیموں کے علاوہ احمد یہ مشن کو بھی ہر دوسرے ہفتے آدھ گھنٹہ وقت ملنے لگا۔یہ پروگرام مسلم حلقوں میں مقبول ہوا۔میر غلام احمد صاحب نسیم ایم۔اے انچارج گی آنا مشن ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ اشاعت حق کے لئے سرگرم عمل رہے۔علاوہ ازیں گی آنا کی ہراہم تقریب میں آپ کو مسلمانوں کی نمائندگی کے قیمتی مواقع میسر آتے رہے۔آپ نے تین بارسور بینام کا تبلیغی دورہ کیا۔اس دوران آپ نے ٹیلی ویژن سے بھی خطاب کیا۔آپ نے ایک دردمند دل رکھنے والے نوجوان کو تحریک کی کہ وہ ملک کے ذرائع ابلاغ سے استفادہ کرتے رہیں۔ماریشس ۲۹ اپریل سے ۲ مئی ۱۹۷۰ ء تک کے ایام اہل ماریشس بالخصوص مسلمانوں کے لئے نہایت پُر مسرت اور مصروف ایام تھے۔کیونکہ ان دنوں میں پاکستان کے تین عظیم جنگی جہازوں (بابر۔عالمگیر۔ڈھاکہ) کا بحری بیڑا ماریشس میں خیر سگالی دورے پر آیا ہوا تھا۔ماریشس کے مسلمانوں بالخصوص جماعت احمدیہ کی طرف سے اس کا پُر جوش استقبال کیا گیا۔حکومت ماریشس نے مختلف مقامی انجمنوں اور سوسائٹیوں کے سپر دمعین تعداد میں معزز مہمانوں کی مہمان نوازی کر دی تھی۔جماعت احمدیہ کو بھی مہمانوں کی ایک معقول تعداد اس سلسلہ میں سپر د کر دی گئی۔پروگرام کے مطابق مولوی محمد اسلم صاحب قریشی شاہد مبلغ ماریشس نے جماعت کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری جنرل مسٹر ناصر احمد سوکیا کے ہمراہ بندرگاہ پر بحریہ کا استقبال کیا۔ایڈ مرل جناب ایم شریف ستارہ خدمت کے سٹاف سے بات چیت کے بعد یکم مئی کو نیوی کے چالیس نوجوانوں کی سیروسیاحت کا انتظام جماعت احمدیہ ماریشس کے سپرد کیا گیا۔جس کا اعلان لاؤڈ سپیکر پر اسی روز دوسری استقبالیہ دعوتوں اور پروگراموں کے ساتھ تینوں جہازوں پر کر دیا گیا۔ان جہازوں پر بہت سے احمدی دوست بھی تھے۔حسب پروگرام یکم مئی کو قریشی صاحب روز ہل سے متعد داحمدی دوستوں کے ساتھ ایک کا راور بس لے کر بندرگاہ پر پہنچے اور اپنے پیارے وطن کے معزز مہمانوں جن میں پانچ چھ احمد یوں ( مثلاً