تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 25 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 25

تاریخ احمدیت۔جلد 26۔25 سال 1970ء ہوتی ہے کہ ” خاتم الانبیاء زندہ باؤ ختم المرسلین زندہ باد “ لیکن بعض وہ بھی ہو سکتے ہیں جنہوں نے تاریخ کی دوریوں اور ماضی کے دھندلکوں میں افق انسانی پر دور سے ایک چمک تو دیکھی اور اس چمک سے وہ ایک حد تک گھائل بھی ہوئے لیکن ابر رحمت ان پر نہیں برسا۔ماضی کے دھندلکوں میں وہ جو ایک چمک انہیں نظر آئی اس پر فریفتہ ہو کر اور اس کے عاشق ہو کر وہ بھی خاتم الانبیاء زندہ باد کا نعرہ لگا لیتے ہیں، لیکن ان کا نعرہ عارفانہ نہیں ہے بلکہ مجوبانہ نعرہ ہے۔وہ اس مقام کو پہچانتے تو نہیں صرف ایک جھلک کے وہ گھائل ہو چکے ہیں اور ہم خوش ہیں کہ وہ پاک وجود جو ہمارے دل اور ہمارے دماغ اور ہماری روح اور ہمارے جسم پر حکومت کرتا ہے اُس کے حق میں مجو بانہ نعرے بھی لگائے جاتے ہیں، لیکن جب ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ بلند ہو تو ایک احمدی کی روح کی گہرائیوں سے نکلنے والا عارفانہ نعرہ ہی سب سے زیادہ بلند ہونا چاہیے۔پس آج میں آپ کو اس طرف متوجہ کر رہا ہوں کہ ” خاتم الانبیاء زندہ باد بحیثیت ایک عارفانہ نعرہ کے ہمارا نعرہ ہے اور علم و عرفان نہ رکھنے والوں کے منہ سے نکلے تو وہ مجو بانہ نعرہ ہے۔البتہ یہ مجو بانہ نعرہ سن کر بھی ہمارے دل خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے محبوب کے نور کی ایک جھلک کو تو انہوں نے دیکھ لیا خواہ ماضی کے دھندلکوں ہی میں کیوں نہ دیکھا ہو۔پس اگر کہیں یہ نعرہ بلند ہو تو آپ زیادہ شوق سے، زیادہ پیار سے اس کے اندر شامل ہوا کریں۔دوسروں کی آواز اگر پہلے آسمان تک پہنچتی ہو تو آپ کی آواز ساتویں آسمان سے بھی بلند ہو کر خدائے عز وجل کے عرش تک پہنچے تا ہمارے آقا، ہمارے محبوب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوں کہ میرے کامل متبعین میرے عشق میں مستانہ وار یہ نعرہ لگارہے ہیں ” خاتم الانبیاء زندہ باد۔حضور انور نے خطبہ کے آخر میں فرمایا:۔ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انسانیت زندہ باد کا نعرہ بھی عارفانہ طور پر ہمارے سوا اور کوئی نہیں لگا سکتا۔جو شخص حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس محسنانہ شان کی معرفت رکھتا ہو، وہی کھڑے ہو کر دوسرے انسان کو مخاطب کر کے یہ