تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 26
تاریخ احمدیت۔جلد 26 26 سال 1970ء کہہ سکتا ہے کہ انسانیت زندہ باد۔پس ان دو نعروں کی طرف میں اس وقت جماعت کو متوجہ کرتا ہوں۔اشتراکیت کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ انسانیت زندہ باد کا نعرہ لگائے اور نہ کسی اور ازم کا یہ حق ہے۔صرف اسلام کا یہ حق ہے، صرف مسلمان کا یہ حق ہے، مسلمانوں میں دو گروہ ہو سکتے ہیں یہ ممکن ہے یعنی ایک وہ جن کے منہ سے عارفانہ طور پر یہ نعرہ نکلے اور ایک وہ جن کے منہ سے مجو بانہ طور پر یہ نعرہ نکلے لیکن یہ نعرہ لگانے کا وہی حقدار ہے جس نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو مضبوطی سے پکڑا اور آپ کی محبت میں فنا ہو گیا۔چونکہ آپ انسانیت کے محسن اعظم ہیں اس واسطے اس شخص کا یہ حق ہے کہ وہ دوسرے انسان کو مخاطب ہو کر یہ کہے کہ اے انسان تیری انسانیت ہمیشہ زندہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سایہ میں غیر انسانی یلغاروں سے وہ محفوظ رہے۔پس یہ دو نعرے ہمارے نعرے ہیں۔ختم المرسلین زندہ باد کانعرہ یا خاتم الانبیاء زندہ باد کا نعرہ یا ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ۔یہ احمدیت کا نعرہ ہے اور ہم ہی اسے عارفانہ طور پر بلند کر سکتے ہیں اور اسی طرح انسانیت زندہ باد کا نعرہ ہمارا نعرہ ہے اور ہم جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادنی غلام اور آپ کے مقام کو پہچاننے والے اور اس مقام کے نتیجہ میں اور انسانیت پر آپ نے جو احسان کیا ہے اس کے عرفان کی وجہ سے ہم اس بات کے سزاوار ہیں کہ انسان کو مخاطب کر کے یہ نعرہ لگائیں کہ انسانیت زندہ باد۔دوسرے بھی یہ نعرہ لگاتے ہیں ہم اسے سن کر خوش ہوں گے لیکن ہمارے نزدیک ان کے نعرے مجو بانہ نعرے ہوں گے اُن کے نعرے عارفانہ نعرے نہیں ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس عرفان پر ہمیشہ قائم رکھے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ یہ تو فیق دے کہ ہم دنیا پر ثابت کرتے رہیں کہ ہم ہی اس بات کے حقدار ہیں کہ خاتم الانبیاء زندہ باد کا نعرہ لگائیں اور ہم ہی اس بات کے حقدار ہیں کہ انسانیت زندہ باد کا نعرہ لگائیں۔