تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 302
تاریخ احمدیت۔جلد 26 302 سال 1970ء بھی شروع کیا اور احمدیت کے بارے میں دعا کرتے رہے۔اس دوران خواب میں ایک رات انہوں نے ایک آیت قرآنی کسی کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اور بیعت کر لی۔یہ ۱۹۳۱ء کی بات ہے یہ تحریری بیعت تھی۔خاکسار ۱۹۳۵ء میں ٹبو را میں تھا۔ٹورا میں ان دنوں کچھ اور احمدی بھی تھے ان سے ملنا جلنا ان کا رہا اور مزید تقویت انہیں ملی۔دعوت الی اللہ کی جدو جہد اور ابتداء میں سواحیلی زبان سیکھنے میں خاکساران سے مدد لیتا رہا۔ٹبورا میں ان دنوں ایک عرب نوجوان ناجم بن سالم نے بھی بیعت کر لی تھی۔یہ دونوں دوست خاکسار کی تقریروں، خطبات کے ترجمان کے طور پر مدد کرتے رہے۔اردو میں درس، تقریر، خطبہ کا ترجمہ محترم قاری صاحب کرتے اور جب عربی میں درس یا خطبہ دیتا تو ناجم بن سالم سواحیلی میں ترجمہ کرتے۔کئی ماہ یہ سلسلہ جاری رہا۔۱۹۳۶ء میں محترم قاری صاحب واپس انڈیا گئے اور اپنے عزیزوں میں عزیزہ رشیدہ بیگم صاحبہ سے شادی کر کے پہلے قادیان گئے اور خاکسار سے واقفیت اور تعلق کی بناء پر قادیان میں ہمارے ہی گھر ٹھہرے۔خاکسار کی والدہ اور بہنوں نے اس شریف زادی جونئی نئی بیاہی گئی تھیں کا خاص خیال رکھا۔اور پھر امام جماعت احمدیہ (الثانی) کی ملاقات وزیارت سے مشرف ہو کر دستی بیعت بھی کر لی۔اور پھر سیدھے مشرقی افریقہ واپس ٹو را پہنچ گئے۔خاکساران دنوں ٹبو را میں اکیلا تھا۔خاکسار کی اہلیہ مبار کہ بیگم بھی ان دنوں قادیان تھیں۔ان سے بھی تعارف ہوا۔اور مشرقی افریقہ جانے والی خاتون کا خاص خیال رکھا۔مشرقی افریقہ میں خاکسار کی اہلیہ چار سال بعد آئیں۔ٹبورا کے قیام کے عرصہ میں محترم قاری صاحب اور ان کی اہلیہ رشیدہ بیگم صاحبہ نے خاکسار کے کھانے کا خاص اہتمام رکھا۔اور لگا تار لمبا عرصہ رکھا۔ان کے اس احسان اور مدارات کا خاکسار پر ہمیشہ گہرا اثر رہا۔(بعدازاں ۱۹۴۰ء میں محترم قاری صاحب کی اہلیہ فوت ہوگئی تھیں اب ان کی شادی کی فکر تھی۔جوان تھے۔صحت مند تھے۔دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔مکرم بابو غلام احمد صاحب نیروبی میں وہ خود اور ان کے بیٹے نے حال ہی میں احمدیت قبول کی اور جلد جلد اپنے اخلاص میں ترقی کی۔ان کی ایک بیٹی عزیزہ حفیظ بیگم کے بارہ میں خاکسار نے بابو صاحب کو تحریک کی۔خدا تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔رضامند ہو گئے۔اور ہمارے عزیز بھائی قاری محمد یسین صاحب کی اس نیک بخت بیٹی سے شادی ہوگئی۔ہر لحاظ سے بہت ہی برکت والی شادی ثابت ہوئی۔محترم قاری صاحب کی