تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 18 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 18

تاریخ احمدیت۔جلد 26 18 سال 1970ء خان ( ولادت ۱۸۵۲ ء وفات یکم فروری ۱۹۴۳ء۔یکے از ۳۱۳ / اصحاب کبار ) کی صاحبزادی تھیں جن کی ولادت انداز ا۱۸۹۳ء میں بمقام پشاور ہوئی۔آپ اپنے بہن بھائیوں میں پانچویں نمبر پر تھیں جو اپنے بھائی عبدالرحیم خان کے بعد پیدا ہوئیں۔آپ کے رشتہ کی تحریک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بذریعہ مکتوب ۲۴ اپریل ۱۹۰۲ء کو فرمائی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سے نکاح ۲ ستمبر ۱۹۰۲ء کو حضرت حکیم الامت مولوی نورالدین صاحب خلیفتہ اسیح الاول نے پڑھایا۔آپ کی رخصتی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سے مئی ۱۹۰۶ء کے دوسرے ہفتے میں ہوئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی برات نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اصلح الموعود، حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب، حضرت سید سرور شاہ صاحب اور دیگر احباب کے ساتھ ، امئی ۱۹۰۶ء کی صبح کو قادیان سے پشاور کیلئے روانہ ہوئی۔ایک رات لاہور میں قیام رہا اور اگلے دن پشاور روانہ ہوئی۔حضرت صاحبزادہ صاحب آپ کو بیاہ کر ۶ امئی ۱۹۰۶ء کو بعد دو پہر قادیان لائے۔اس مبارک موقع پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے اخبار الحکم ۷ امئی ۱۹۰۶ء کے صفحہ ۲ پر مبارک باد کے جلی عنوان سے پورے صفحہ کا ایک تہنیتی نوٹ سپر د قلم فرمایا۔حضرت سرور سلطان صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دوسری بہو تھیں جو الدار“ میں داخل ہو کر خدائی وعدہ کے مطابق خواتین مبارکہ کے مقدس زمرہ میں شامل ہوئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہدِ مبارک ہی میں سے اگست ۱۹۰۷ء کو آپ کے بطن سے صاحبزادی امتہ السلام صاحبہ پیدا ہوئیں اور اس طرح آپ کے مبارک وجود سے بھی تری نسلاً بعيداً “ کی آسمانی بشارت کا عملی ظہور ہوا۔14 166 آپ ان خوش نصیب اور بزرگ مستورات میں سے تھیں جنہیں خلافت جو بلی کے موقع پر لوائے احمدیت کے لئے سوت کاتنے کا اعزاز حاصل ہوا۔یہ قابل افتخار خدمت آپ نے ۱۹۳۹ء میں حضرت سیّدہ ام طاہر کی نگرانی میں انجام دی۔آپ ۲۵ را گست ۱۹۴۷ء کو حضرت اماں جان اور دوسری خواتین مبارکہ کے ساتھ ہجرت کر کے قادیان سے لاہور تشریف لائیں اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ۲۲ ستمبر ۱۹۴۷ء کو پاکستان پہنچے اور رتن باغ میں قیام فرما ہوئے۔اور پھر جنوری ۱۹۵۱ء میں مستقل طور پر دارالہجرت ربوہ میں بود و باش اختیار کر لی۔جون ۱۹۶۰ء میں حضرت اُمّم مظفر کی طرف سے ان کے خرچ پر چوہدری شبیر احمد صاحب