تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 17
تاریخ احمدیت۔جلد 26 17 سال 1970ء صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب، صاحبزادہ ڈاکٹر کرنل مرزا مبشر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب ایم اے سابق ہیڈ ماسٹر احمد یہ سیکنڈری سکول کماسی ( گھانا ) و پروفیسر تعلیم الاسلام کا لج ربوہ ) اور داماد جناب مرزا رشید احمد صاحب نوابزادہ محمود احمد خان صاحب، بریگیڈیر وقیع الزمان صاحب اور ونگ کمانڈ رسید محمد احمد صاحب اور خاندان مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد جنازہ کو کندھوں پر اٹھا کر کوٹھی کے بیرونی حصہ سے سڑک پر لائے جہاں احباب ہزاروں کی تعداد میں دور تک دو رویہ کھڑے ہوئے تھے ربوہ کی مقامی مجلس خدام الاحمدیہ کے اراکین اور جامعہ احمدیہ کے طلباء نظم وضبط برقرار رکھنے کے لئے ڈیوٹیوں پر مقرر تھے۔حضور انور اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد نے دور تک جنازہ کو کندھا دیا نیز احباب کو بھی راستہ میں ایک خاص نظام کے ماتحت کندھا دینے کا موقع دیا گیا۔اس طرح جنازہ ہزاروں احباب کے کندھوں پر دار الصدر کی بڑی سڑک پر دفاتر صدرانجمن احمد یہ کے سامنے سے گذر کر گولبازار سے ہوتا ہوا افضل عمر ہسپتال والی سڑک پر لایا گیا اور پھر وہاں سے بہشتی مقبرہ پہنچا۔جنازہ پہلے بہشتی مقبرہ کے میدان میں لا کر رکھا گیا جہاں حضور انور نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں ربوہ کے مقامی احباب اور بیرونجات سے تشریف لانے والے احباب شریک ہوئے۔تدفین نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد جنازہ کو اس چار دیواری میں لایا گیا جہاں حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہا اور حضرت مصلح موعود اور دیگر بزرگوں کے مبارک مزار ہیں۔نماز جنازہ کے میدان سے چار دیواری تک جنازہ کو لے جاتے وقت حضور ، حضرت مرحومہ کے فرزندان اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد نے پھر کندھا دیا۔تابوت کو قبر کے اندرا تارنے میں حضور اور حضرت مرحومہ کے سب فرزندوں اور دامادوں اور ان کے بھائی عبدالرحمن خان صاحب نیز خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض دیگر افراد نے حصہ لیا اور آپ کے جسد اطہر کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مزار مبارک کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا جس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اجتماعی دعا کروائی۔13 اوصاف حمیدہ اور امتیازی شرف حضرت اُمّم مظفر احمد سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم صحابی حضرت مولانا غلام حسن