تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 266 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 266

تاریخ احمدیت۔جلد 26 266 سال 1970ء کپڑا انہیں بھجوایا گیا اور انہوں نے بحمد اللہ تعالیٰ اس سے برکت حاصل کرنے کی سعادت پائی۔اب اللہ تعالیٰ نے ایک اور نشان ظاہر فرمایا ہے ایک موجودہ سربراہ مملکت جو اپنے ملک میں بے حد مقبول ہیں اور ان کی قوم انہیں باپ کہہ کر پکارتی ہے ان کے بیٹے نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے۔اللہ تعالیٰ کے غیر معمولی فضلوں اور احسانوں کی آئینہ دار اس خوشخبری کوسن کر سامعین میں زبر دست خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ گئی اور جلسہ گاہ پر جوش نعروں سے گونج اٹھا۔اپنے بصیرت افروز اور معرکہ آراء خطاب کے آخر میں حضور نے نہایت ولولہ انگیز پیرا یہ میں فرمایا کہ آسمانوں پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور خدائی تقدیر حرکت میں آچکی ہے کہ بادشاہ بھی اور امراء بھی ، متوسط طبقہ کے لوگ بھی اور غریب ومسکین اور یتیم بھی جماعت میں داخل ہو کر اخوت کی برادری میں شامل ہوتے اور محبت کی رسی میں بندھ کر ایک ہوتے چلے جائیں گے۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو امت واحدہ کے قیام کا جو وعدہ دیا گیا تھاوہ پورا ہوگا۔امراء اور مملکتوں کے سربراہ بادشاہ کی حیثیت سے داخل ہوں گے اور غریب بھائی کو بھائی کی حیثیت سے گلے لگا لیں گے۔نہ کوئی بادشاہ رہے گا اور نہ کوئی فقیر، سارے ہی اپنے آقا و مطاع محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں غلام بن کر رہیں گے اور ایک حسین معاشرہ پیدا کر کے ایسی زندگی گزاریں گے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتیں انہیں حاصل ہوں گی۔فتنہ و فساد مٹ جائے گا۔بھائی بھائی پر ظلم نہیں کرے گا بلکہ اس کی خاطر قربانی دے رہا ہوگا۔الغرض وہ ایک حسین معاشرہ ہوگا جس میں سب ہی اللہ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے اس کے شکر گزار بندوں کی حیثیت سے ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے ہوں گے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب آسمانی فیصلہ میں سالانہ جلسہ کے روحانی فوائد کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا تھا کہ ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر ایک نئے سال میں جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشتہ تو ڈ دو تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا۔اور جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کر جائے گا اس جلسہ میں اس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے گی۔حضرت اقدس علیہ السلام کے اس ارشاد مبارک کی تعمیل میں مولانا ابوالعطاء صاحب صدر مجلس