تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 265
تاریخ احمدیت۔جلد 26 265 سال 1970ء درج ذیل تین عظیم الشان وسائل پر دلنشیں انداز میں روشنی ڈالی۔۱۔شرف انسانی۔۲۔مساوات انسانی۔۳۔تحفظ حقوق انسانی۔حضور نے قرآن مجید، احادیث نبویہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور تاریخ اسلام کی روشنی میں ان تینوں وسائل کی انقلاب انگیز تا ثیرات کو شرح وبسط کے ساتھ بیان فرمایا۔اور نہایت خوبی اور عمدگی کے ساتھ واضح فرمایا کہ ساری دنیا کے دل ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے ہیں اور جیتنے بھی ہیں روحانی ہتھیاروں سے، اخلاقی ہتھیاروں سے، احسان کے ہتھیاروں سے، کیونکہ انہی ہتھیاروں سے دل جیتے جا سکتے ہیں اور ملتِ واحدہ کا قیام عمل میں آ سکتا ہے۔اس ضمن میں حضور نے اپنے دورہ مغربی افریقہ کے بعض نہایت ایمان افروز واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تسخیر قلوب کے انہی وسائل کا پیغام لے کر مغربی افریقہ گیا تھا۔ان وسائل کے بروئے کار آنے کے نتیجہ میں وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے انسانوں کے دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتے جارہے ہیں اور ایک بڑا خوشکن انقلاب رونما ہو رہا ہے جن لوگوں کے دل جیتے جاچکے ہیں اتنا عشق ہے ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے فرزند جلیل سے کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔پھر حق کی اشاعت اور اعلان میں وہ اتنے دلیر ہیں کہ شہروں کی گلیوں میں لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ یہ اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ خدا کا مسیح جس کے آنے کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ آگیا ہے۔پھر حضرت مصلح موعود سے بھی انہیں بڑا پیار ہے وہ حضرت مصلح موعود سے اس وجہ سے پیار کرتے ہیں کہ آپ ہی کے ذریعہ اسلام کا پیغام ان تک پہنچا اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کو احسان کو انہوں نے پہچانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلالت شان کا عرفان حاصل کیا اور آنحضور ع۔حسن و احسان کے جلوے انہیں دیکھنے نصیب ہوئے۔اس کے بعد حضور نے مغربی افریقہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بکثرت ظاہر ہونے والے نشانوں کا ذکر کرتے ہوئے نصرت جہاں ریزرو فنڈ کے ماتحت جاری آگے بڑھو (Leap Forward) پروگرام اور اس کی کامیابیوں کی تفصیلات بیان فرمائیں اور پھر سامعین کو یہ عظیم الشان خوشخبری سنائی کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے گیمبیا کے سابق گورنر جنرل سر مارا محمد سنگھاٹے کے ذریعہ اس عظیم بشارت کے ابتدائی ظہور سے ہمیں شاد کام فرمایا تھا کہ "بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈمیں گئے جبکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور لمبا عرصہ دعائیں کرنے کے بعد حضور علیہ السلام کے کپڑوں سے برکت حاصل کرنے کی غرض سے حضور کے مستعملہ کپڑے کا ایک ٹکڑا عطا کئے جانے کی درخواست کی تھی۔چنانچہ وہ