تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 256
تاریخ احمدیت۔جلد 26 256 سال 1970ء یہ باتیں صحیح تھیں یا غلط ، بہر حال لوگ مجھے اگر ایسی باتیں سناتے رہتے تھے۔لیکن ان کا پتہ ہی نہیں لگا کہاں گئے؟ اس واسطے کہ اصل کامیابی کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کسی کو ابتلاء اور امتحان میں ڈالتا ہے اور اسے دنیوی کامیابی دے دیتا ہے یعنی دنیا کی ہر کامیابی اللہ تعالیٰ کا فضل اور برکت اور رحمت شمار نہیں ہو سکتی۔قرآن کریم نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔یعنی بھی انعام اور اصطفاء کے طور پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا نزول ہوتا ہے۔کبھی ابتلاء کے طور پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا نزول ہوتا ہے۔پس جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے، ہمیں بھی اللہ تعالیٰ آزماتا ہے۔لیکن اس میں بھی ہمارے لئے رحمت پوشیدہ ہوتی ہے البتہ جو انعام اصطفی کے طور پر یعنی اپنی محبت اور قرب کے اظہار کے طور پر وہ جماعت احمد یہ پر نازل کرتا اور ان سے پیار کرتا ہے اس کا تو شمار ہی کوئی نہیں ! اس لئے بہت الحمدللہ پڑھو۔اور اپنے رب کے حضور گرو اور اس سے کہو کہ ہم تیرے ناچیز بندے ہیں۔تیرے فضلوں کا شمار نہیں ہے۔ہماری زبانیں ، ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ شکر ادا کرنا چاہے تو شکر ادا نہیں کرسکتا اور یہ دعا بھی کرو کہ اے اللہ! تو نے اپنے بندوں کے لئے بہتری کے کچھ سامان پیدا کرنے شروع کئے ہیں۔وہ مظلوم اور محروم جو ہر طرف سے دھتکارے ہوئے اور ذلیل سمجھے جانے والے اور حقیر کہلانے والے جنہیں لوگ عوام کہتے ہیں۔یہ تیرے بندے اب اپنی عزت کے راستے پر قدم اٹھانے لگ گئے ہیں۔تو ایسی تدبیر کر آسمانوں سے اور ایسا حکم نازل کر کہ یہ اپنی منزل مقصود کو پہنچ جائیں اور وہ حسین معاشرہ جو اسلام کا معاشرہ ہے، جو دنیا کی کسی اور قوم کے دماغ میں بھی نہیں آسکتا تھا وہ معاشرہ قائم ہو جائے اور ہر مظلوم ظلم سے نجات اور چھٹکارا حاصل کرے اور ہر محروم کو خواہ وہ مانگے یا مانگنے سے بھی محروم ہو اس کے حقوق اسے مل جائیں، اقتصادی بھی اور عزت نفس کے لحاظ سے بھی“۔ڈاکٹر عبدالہادی کیوسی صاحب کے قادیان سے متعلق تاثرات جرمنی کے نامور نومسلم احمدی محقق و فاضل ڈاکٹر محمد عبدالہادی کیوسی صاحب نے اس سال