تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 257 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 257

تاریخ احمدیت۔جلد 26 257 سال 1970ء زیارت قادیان کا شرف حاصل کیا ( زیارت قادیان دارالامان کے بعد آپ نے جلسہ سالانہ ربوہ میں شرکت کی اور پھر حرمین شریفین کی زیارت اور عمرہ بجالانے کا شرف حاصل کیا) واپسی پر آپ نے جماعت احمدیہ جرمنی کے ماہوار رسالہ دی اسلام (Der Islam) میں ایک اداریہ بعنوان ” قادیان“ سپر داشاعت فرمایا جس میں مرکز احمدیت سے متعلق اپنے ایمان افروز تاثرات قلمبند فرمائے۔اس اداریہ کے ضروری حصے کا ترجمہ جناب مسعود احمد صاحب جہلمی مبلغ جرمنی کے الفاظ میں درج ذیل کیا جاتا ہے:۔قادیان پہنچنے کے فورا بعد ہی میں نے وضو کیا اور مجھے بیت الدعا میں جانے کا موقع دیا گیا۔وہاں پر کچھ اور ہی کیفیت پیدا ہو گئی۔ایک عجیب غیر متوقع کیفیت۔ہاں اس چھوٹے سے کمرے میں۔جس میں حضرت بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد علیہ السلام نے اپنی زندگی کے کتنے ہی گھنٹے ، کتنے ہی دن اور کتنے ہی مہینے دعاؤں، ذکر الہی اور خدائے قادر وتوانا اور واحد و یگانہ کی دلی عبادت میں گزارے تھے۔یکا یک نهایت امن وسکون اور خاموشی کے ساتھ۔میری بیقراری زائل ہو گئی۔آنِ واحد میں میری ہیجانی کیفیات تھم گئیں۔اور میری روح سکون ، طمانیت اور نا قابل بیان خوشی سے بھر گئی۔کسی قسم کا نہ غصہ نہ اشتعال بلکہ خاموشی اور محبت بھر اسکون۔میں نہیں جانتا کہ میں کتنی دیر اس کمرے میں رہا۔کیونکہ غالبا دیر تک مجھے نہ کسی نے آواز دی اور نہ ہی مجھے ہٹایا۔تھوڑی دیر کے لئے وقت کی رفتار کے اندازے کا مجھے قطعاً احساس نہ رہا اور اپنے گردو پیش کی مادی دنیا کو میں پوری طرح بھول گیا۔مجھے یہاں پر اپنے قیام کے بقیہ ایام میں یہ معلوم ہوا کہ یہ لمحات جو مجھے یہاں گزارنے کی فرصت ملی در حقیقت تمام جماعت کا اپنے دور دراز سے آنے والے بھائی کے لئے محبت اور پیار کا ایک حسین تحفہ تھا ورنہ در حقیقت یہ کمرہ دن اور رات کے تمام لمحات میں دو دو بلکہ تین تین دعا کرنے والے افراد سے پُر رہتا ہے جو باری باری یہاں آکر دعا میں روحانی تسکین اور ایمانی تر و تازگی تلاش کرتے اور پاتے ہیں۔قادیان میں میرے ( تین روزہ ) قیام کے دوران ایک اور مقام جس کی طرف میرے قدم بار بار بے اختیار چل پڑتے تھے۔وہ بہشتی مقبرہ تھا۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے اولین صحابہ مدفون ہیں۔میں نے یہاں پر کئی گھنٹے گزارے۔۲۲ دسمبر ۱۹۷۰ء کو بعد دو پہر میں ایک مرتبہ پھر اس پُر سکون مقام پر گیا کیونکہ مجھے علم تھا کہ اگلے روز کی صبح کو میری یہاں سے واپسی ہے۔