تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 255 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 255

تاریخ احمدیت۔جلد 26 255 سال 1970ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو طبیب اپنے مریض کے لئے دعا نہیں کرتا وہ بڑا ظالم ہے تو جو ووٹر احمدی ہے، جس کے حق میں اس نے ووٹ ڈالنا ہے اگر وہ اس کے حق میں دعا نہیں کر رہا تو وہ بھی ظالم ہے کیونکہ اصل چیز تو دعا ہے۔اس کے فضل کے بغیر تو کچھ نہیں ہوسکتا۔کئی ناسمجھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو دعا کا فلسفہ ہی نہیں آتا۔ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ میری مدد کریں۔میرے آپ کے ساتھ بہت تعلقات ہیں۔میں نے کہا بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ٹھیک ہے تم نے جماعت سے تعلقات بھی رکھے ہوں گے لیکن اب ہم وعدہ کر چکے ہیں۔تم دیر بعد آئے ہو۔ورنہ اگر تم پہلے آ جاتے تو تمہاری مدد کر دیتے۔وہ کہنے لگا کہ اچھا اگر اس سے مدد کا وعدہ کر دیا ہے تو میرے لئے دعا کریں۔میں نے کہا دعا اور عمل اکٹھے چلیں گے۔آپس میں ان کا تصادم کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن چونکہ وہ دعا کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتے ، اسلام کی روح سے واقف نہیں ہوتے اس لئے اس قسم کے خیالات دماغ میں آتے ہیں اور ان کا اظہار کر جاتے ہیں۔پس جہاں احمدی کا ووٹ جائے گا وہاں احمدی کی دعائیں بھی اسی راستے پر چل رہی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کریں گی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسی ناممکن باتیں ممکن بنادی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔جو لوگ ہماری مخالفت کرتے رہے، ناجائز طور پر ہمیں تنگ کرتے رہے، ڈراتے دھمکاتے رہے۔ان کے متعلق میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ ان کو شکست ہو اور میں ان کی شکست کے لئے دعائیں بھی کرتا تھا۔چنانچہ جب ان کے خلاف کھڑے ہونے والوں سے جماعتوں نے وعدہ بھی کر لیا لیکن جب میں کہوں تم زور لگاؤ کہ اس قسم کے کسی شخص کو کامیاب نہیں ہونا چاہیے تو دوست کہیں کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔یہ تو بڑا مضبوط ہے۔یہ تو بڑے اثر و رسوخ والا ہے اس نے تو بڑے بڑے قاتل اور خونخوار قسم کے ایجنٹ رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے فلاں جگہ تو اعلان کر دیا ہے کہ جو انہیں ووٹ نہیں دے گا اسے وہ شوٹ کر دیں گے۔وغیرہ وغیرہ۔