تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 253
تاریخ احمدیت۔جلد 26 253 سال 1970ء پاس جو لوگ آتے تھے میں ان کو سمجھاتا تھا کہ دیکھو! ہم ایک غریب جماعت ہیں۔دنیوی لحاظ سے ایک بے سہارا جماعت، ایک ایسی جماعت کہ جو ہزار کے مقابلے میں اگر ایک پتھر پھینکنے کی طاقت رکھتی ہے تو وہ بھی نہیں پھینک سکتی کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پتھر کا جواب پتھر سے نہیں دینا۔اگر کروڑ گالیاں بھی ہمیں دی جاتی ہیں تو اگر کوئی نوجوان جوش میں آکر ایک گالی اس کروڑ کے مقابلہ میں دینا چاہتا ہے تو اس کے دماغ میں یہ بات مسلط ہو جاتی ہے کہ ہمارے امام اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا تھا گالیاں سن کر دعا دو۔اس کی زبان پر ایک بات آتی ہے۔وہیں رک جاتی ہے وہ اسے مونہہ سے نہیں نکالتا۔ان تمام حالات کے باوجود ۸۰ سالہ گالیوں اور ۸۰ سالہ کفر کے فتووں نے نہ ہمارے چہروں سے مسکراہٹیں چھینیں اور نہ ہم سے قوت احسان کو چھینا۔ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھتے اور مسکراتے ہوئے اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔کوئی شخص خواہ وہ ساری عمر گالیاں دیتا رہا۔جب بھی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دروازے پر آیا تو خالی ہاتھ واپس نہیں گیا۔یہ قوت احسان ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے۔یہ اس کا بڑا فضل ہے انسان خود اس قوت کو پیدا نہیں کرسکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ ہمارے اندر اللہ تعالیٰ نے قوتِ احسان کو پیدا کیا ہے۔غرض جو آدمی آتا ہے اگر اس کا کام جائز ہو تو کر دیا جاتا ہے۔یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دو دن پہلے اس نے ہمیں نہایت گندی گالیاں دی تھیں اور اسی طرح اس نے ساری عمر گالیاں دینے میں گزار دی اور ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔نا جائز طور پر احمدیوں کو نقصان پہنچانے میں اگر کامیاب بھی ہو گیا تو کوئی بات نہیں دنیوی لحاظ سے ابتلاء بھی آتا ہے ہم یہ نہیں دیکھتے صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس کا مطالبہ جائز ہے یا نہیں۔اگر جائز ہے تو وہ ہم سے تعلق رکھنے والا ہے یا ہماری مخالفت کرنے والا ہے اس کو ہم خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے۔ہم اس کی مدد کرتے ہیں۔پس اس قسم کی ۸۰ سالہ مخالفت جو اللہ تعالیٰ اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاری نہیں تھی اس کے نتیجہ میں بھی نہ ہماری مسکراہٹیں چھینی گئیں اور نہ ہم سے قوت احسان