تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 252
تاریخ احمدیت۔جلد 26 252 سال 1970 ء ووٹ دو۔خواہ یہ ہاریں یا جیتیں ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔بعض قیوم لیگ سے تعلق رکھنے والے آئے۔وہ ہمارے ساتھ تعلق رکھتے تھے ہماری جماعت کا خیال رکھتے تھے۔شریف آدمیوں سے یہ دنیا بسی ہوئی ہے وہاں مقامی جماعت احمدیہ نے کہا کہ ہم ان کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ہم نے کہا ٹھیک ہے سیاست میں تو کوئی حکم نہیں چلے گا۔تمہارے ساتھ تعلق رکھتے تھے، تم اگر ان کو ووٹ دینا چاہتے ہوتو ان کو ووٹ دے دو اسی طرح بہت سارے آزاد ممبر آئے ، ان کا ہمارے ساتھ تعلق تھا نہ پیپلز پارٹی نے ان کو ٹکٹ دیا تھا اور نہ کسی اور پارٹی نے ان کو ٹکٹ دیا تھا۔چنانچہ وہ بھی آئے۔ہم نے کہا ٹھیک ہے مقامی جماعتیں اگر تمہارے ساتھ ہیں تو وہ تمہیں ووٹ دیں گی۔پس احمدیوں کے ووٹ مختلف سیاسی پارٹیوں میں تقسیم ہو گئے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو پارٹی زیادہ صاحب فراست نکلی ، اس نے اپنے تدبر سے احمدیوں سے زیادہ خدمت لے لی۔یہ بھی اپنی جگہ صحیح ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہمارا کسی ایک پارٹی کے ساتھ الحاق ہے۔غرض جو پارٹی اس وقت سب سے زیادہ کامیاب ہوئی ہے اور جس نے ہم سے سب سے زیادہ خدمت کی ہے اور ووٹ لئے ہیں اس کے متعلق دوسروں کا خیال ہے (میرا جو خیال ہے وہ اس سے زیادہ ہے۔مجھے بعض رپورٹیں لاہور سے آئی ہیں که اب) وہ کہتے ہیں کہ یہ ( پیپلز پارٹی والے ) اس واسطے جیت گئے کہ پندرہ لاکھ احمدی ووٹر ان کے ساتھ شامل ہو گیا تھا۔ہم نے کہیں مردم شماری نہیں کرائی اس واسطے کہ نہیں سکتے کہ پندرہ لاکھ احمدی ووٹر تھے۔لیکن احمدی اور احمدیوں کے دوست اور تعلق رکھنے والے ووٹر جو اس پارٹی کو ملے وہ میرے اندازے کے مطابق پندرہ لاکھ نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہیں۔ان مہینوں میں جو پیچھے گزرے ہیں لوگوں میں جوش بھی تھا غلط باتیں بھی ہو رہی تھیں اور اس عہد کو تو ڑا بھی جار ہا تھا جو خدا نے اپنے بندوں یا امت مسلمہ سے لیا تھا کہ دیکھو! معمولی معمولی اختلافات کی وجہ سے مسلمانوں کو ان کے سیاسی ، معاشرتی اور اقتصادی حقوق سے محروم نہ کرنا۔ورنہ اس کے نتیجہ میں رحمت نہیں پیدا ہوگی۔میرے