تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 254
تاریخ احمدیت۔جلد 26 254 سال 1970ء چھینی گئی۔اب جس آدمی کے ساتھ آپ پیار کا اور محبت کا تعلق رکھتے ہیں یا جس کے ساتھ آپ ہمدردی اور غمخواری کرتے ہیں ، وقت پر اس کے کام آتے ہیں۔مصیبت کے وقت اس کی مصیبت دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو وہ سمجھتا ہے کہ اعتقاد اہم ایک نہیں لیکن ہمارے دل ایک ہی قسم کی حرکت کر رہے ہیں۔اس طرح وہ دو نہیں، ایک ہو جاتے ہیں۔جس وقت ایسے وقت آتے ہیں تو اگر وہ دلیر ہیں اور اگر ان کے حالات اس کی اجازت دیتے ہیں تو وہ کہتے ہیں۔جدھر تم جاؤ گے اُدھر ہم جائیں گے۔لیکن اگر ان کے حالات اجازت نہ دیں تو وہ ہمارے کان میں آکر کہتے ہیں تم فکر نہ کرو۔ہم جائیں گے تو اس راستے سے مگر ووٹ تمہیں دیں گے۔پس ہماری قوت احسان اور ہمارے پیار اور ہماری محبت کے نتیجہ میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔اس لئے صرف احمدی ووٹ نہیں بلکہ جس حلقے میں بھی جدھر احمدی گیا وہ اپنے ساتھ دُگنے لگنے ووٹ لے کر گیا۔بعض عقلمندوں کو الیکشن سے پہلے یہ نکتہ سمجھ آ گیا تھا۔چنانچہ گجرات سے ہمارے ایک دوست آئے۔وہ احمدی نہیں تھے۔کہنے لگے کہ آپ میری مدد کریں۔وہ خود ہی کہنے لگے کہ میرے حلقہ انتخاب میں سات ہزار احمدی ووٹ ہے اور میں نے اندازہ لگایا ہے کہ ۲۵۔۳۰ ہزار ووٹ آپ کے ہیں۔جدھر یہ سات ہزار ووٹ جائے گا اُدھر ہی یہ ۲۵۔۳۰ ہزار ووٹ بھی ساتھ جائے گا۔اس لئے میں آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ میری مدد کریں۔میں بہت خوش ہوا۔میں نے اس سے کہا میں اس لئے خوش ہوں کہ جو چیز بہت سے لوگوں کے سامنے نہیں آئی اور وہ سوچتے نہیں، وہ تمہارے دماغ میں آگئی ہے۔خیر اللہ تعالیٰ نے وہاں کی جماعت کو اس کے لئے کام کرنے کی توفیق دی اور وہ انتخاب میں کامیاب ہو گیا حالانکہ اس کا بڑا سخت مقابلہ تھا۔ایک بڑا ہی ظالم قسم کا آدمی اس کے خلاف کھڑا تھا جولوگوں کے حقوق مارنے والا تھا اور اس نے بڑی دھمکیاں دیں (احمد یوں کو نہیں۔احمدی تو دھمکی کی پرواہ ہی نہیں کرتے ) اور دوسرے ووٹروں کو اس نے بہت ستایا ، بہت کچھ کیا لیکن کامیاب نہیں ہوسکا۔غرض احمدیوں کے شامل ہونے سے اللہ تعالیٰ کا فضل بھی شامل ہو جاتا ہے۔