تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 250 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 250

تاریخ احمدیت۔جلد 26 250 سال 1970ء اس وقت انتخابات کا جو نتیجہ نکلا ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ قوم ایک حد تک سیاست کے آخری مقصد کے حصول کے لئے قدم اٹھا چکی ہے۔الیکشن ہوئے ، پھر مارشل لاء کے قانونی فریم ورک کے مطابق کانسٹی ٹیوشن یعنی دستور بنے گا۔پھر ہمارے صدر صاحب اگر دیکھیں گے کہ قوم میں فساد نہیں پیدا ہوتا یا قوم کی یک جہتی اور اتحاد کے خلاف نہیں تو وہ اس کو منظور کریں گے پھر سیاسی حقوق کا انتقال ہوگا۔پھر اسمبلیاں بنیں گی جنہیں بجبیلیچر کہتے ہیں اور پھر یہ اسمبلیاں قوانین وضع کریں گی اور مختلف پارٹیاں جو حکومت بنائیں گی وہ اپنے اپنے پروگرام کے مطابق سکیمیں سوچیں گی اور قوانین بنائیں گی۔بہر حال یہ تو ایک لمبا عمل ہے البتہ ایک قدم عوام کے سیاسی حقوق کو قائم کرنے کی طرف اٹھایا گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو چیز پرانے تجربہ کار سیاستدانوں کی نظر سے اوجھل تھی اور جس کے نتیجہ میں انہیں شکست اٹھانی پڑی وہ یہ تھی کہ پچھلے ۲۳ سال میں (جو پارٹیشن یعنی تقسیم ملک کے بعد ہماری قوم نے گزارے ہیں ) ہر سال ووٹروں کا ایک نیا گروہ ووٹروں کی لسٹ میں شامل ہوتا تھا۔ہر سال ۲۰ سال سے ۲۱ سال کی عمر کو پانے والا ووٹروں کی لسٹ میں آجا تا تھا۔اس قسم کے ۲۳ نئے گروہ ووٹروں کی فہرست میں شامل ہوئے لیکن اس ۲۳ سال کے عرصہ میں ایک دفعہ بھی ان کو اپنے خیالات کے اظہار کرنے کا موقعہ نہیں ملا کیونکہ عام رائے دہی کے اصول پر اس سے پہلے انتخاب نہیں ہوئے۔اب یہ ۲۳ سال کا جو مجموعی گروہ ووٹروں کے حقوق حاصل کرنے والا اور ووٹروں کی فہرست میں داخل ہونے والا ہے یہ تھوڑا نہیں ہے میرے عام اندازے کے مطابق ووٹروں کا ۴۰ فیصد ایسا ہے جو اس ۲۳ سال میں ووٹ دینے کی عمر کو پہنچ کر ووٹر بنا اور جس نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔یہ ایک بڑی طاقت ہے جیسا کہ پہلے سیاستدانوں نے ان کو حقوق کی ادائیگی میں چھوڑ دیا تھا۔اور ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی تھی اسی طرح اب بھی انہوں نے ان کی نبض پر اپنی انگلیاں نہیں رکھیں۔ان کو پتہ نہیں تھا یہ اس بات کو بھولے ہوئے تھے کہ اس ۲۳ سال کے عرصہ میں سیاست کے اندر ایک ایسا گروہ آ گیا ہے( جو میرے اندازے کے مطابق