تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 251
تاریخ احمدیت۔جلد 26 251 سال 1970ء ۴۰ فیصد ہے) جسے ووٹ دینے کا پہلی دفعہ موقعہ ملا۔چنانچہ سیاستدان پرانی ڈگر پر چل رہے تھے مگر اس نئے گروہ نے جسے میرے نزدیک Young Pakistan ( ینگ پاکستان ) یعنی نوجوان پاکستان کہنا چاہیے، اس نوجوان پاکستان نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ مذہبی اختلافات کے نتیجہ میں کسی کو لڑنے نہیں دیں گے۔یہ ایک بڑا ہی عظیم فیصلہ ہے جو نو جوان پاکستان نے دیا ہے کوئی پندرہ ہیں قومی اسمبلی کے امیدواروں کو احمدی کہہ کر ان کی مخالفت کی گئی۔مگر ان میں سے ایک نے بھی شکست نہیں کھائی۔یہ فیصلہ تھا اس نو جوان پاکستان کا کہ تم مذہب میں الجھا کر ہمارے جائز حقوق سے ہمیں محروم کرنا چاہتے ہو۔ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔اسلام نے ہمارے جو حقوق قائم کئے ہیں وہ ہمیں ملنے چاہئیں اور اب پہلے کی طرح کوئی مذہبی اختلاف اس راستے میں حائل نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں پانچ احمدی کامیاب ہوئے ہیں۔الحمد للہ۔جو ہمارے سب سے زیادہ مخالف تھے۔میں ان کا نام نہیں لیتا۔انہوں نے ہماری مخالفت میں بڑا زور لگایا تھا۔انہوں نے مذہب کے نام پر، اسلام کے نام پر فتنہ وفساد کی ایک آگ بھڑکا دی تھی۔انہوں نے دکان بڑی سجائی تھی۔بہت سارے لوگ اس دکان کو،اس Show window(شو ونڈو ) کو دیکھ کر سمجھتے تھے کہ اب پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔کئی احمدی دوست میرے پاس بڑے گھبرائے ہوئے آتے تھے مگر میں ان کو سمجھا تا تھا کہ کیا ہو جائے گا ؟ ہو گا وہی جو خدا چاہے گا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔پنجاب میں ان سارے لوگوں میں سے ہارے ہوئے اور ایک جیتے ہوئے کے ووٹ ملا کر چورانوے ہزار بنتے ہیں۔اس کے مقابلے میں ہمارے پانچ جیتنے والے دوستوں میں سے تین نے ایک لاکھ سے زائد ووٹ لئے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کیونکہ جماعت احمدیہ کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ تو تعلق اتحاد نہیں رکھتی۔کسی ایک پارٹی کے ساتھ ہمارا الحاق نہیں ہوسکتا تھا۔ہمارے خلاف جھوٹ بھی بولے گئے۔یہ سب کچھ کہا گیا لیکن واقعہ یہ ہے کہ بعض جگہ احمدیوں نے کہا کہ ہمارا کنونشن لیگ کے ساتھ تعلق ہے۔ہم نے کہا ٹھیک ہے تم ان کو