تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 240 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 240

تاریخ احمدیت۔جلد 26 240 سال 1970ء 9966 نمائندہ کی اطلاع کے مطابق اس کا سارے کا سارا جمع شدہ بتیس لاکھ روپیہ پیپلز پارٹی کے حوالے کر دینے کا اعلان کیا گیا ہے جو پیپلز پارٹی کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں پر خرچ کیا جائے گا۔اس روپیہ میں سے چند لاکھ روپیہ الفضل ” مساوات ”شہاب“ اور ”پاکستان ٹائمز کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے تا کہ وہ اس انتخابی مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں پیپلز پارٹی کی مدد کر سکیں۔مرزائیوں کے اس خصوصی اجلاس میں خلیفہ جماعت نے حاضرین کو یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کل امیدواروں میں سے ۲۵ فیصد امیدواروں کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔“ ضلع جھنگ میں صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کا منشور" ا۔صوبائی اسمبلی حلقہ چنیوٹ کے امیدوار سید الطاف حسین شاہ نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا منشور اسلام ختم نبوت اور جمہوریت ہے۔-۲ شیخ محمد اقبال صاحب امیدوار صوبائی اسمبلی جھنگ نے انٹرویو دیا کہ:۔161 میں قادیانیوں کو کافر سمجھتا ہوں۔میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جانے کے حق میں ہوں۔اسمبلی میں اسی مقصد کا بل بھی پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔مولوی منظور احمد چنیوٹی نے بیان دیا کہ:۔162 ”میری تو ساری زندگی کا نچوڑ ہی مرزائیت اور مرزائیوں کی مخالفت ہے۔میں انہیں کا فرسمجھتا ہوں کہ دستور میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اگر میں منتخب ہو گیا تو اس مقصد کا بل ضرور پیش کروں گا۔نیز کہا:۔قادیانی کسی صورت میں بھی یہ نہیں چاہتے کہ انتخاب میں راقم کامیاب ہو جائے۔میری کامیابی ان کے لئے پیغام موت ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری کامیابی یقینی ہے“۔مولوی صاحب اس الیکشن میں بری طرح سے ہار گئے تھے۔) یہ درست ہے کہ میرے مد مقابل کوئی مرزائی امیدوار نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرے مد مقابل پوری امت مرزائیت ہے میری فتح امت مرزائیت کی شکست اور خدانخواستہ میری شکست مرزائیت کی فتح ہے۔میری فتح و شکست ختم نبوت کے وقار کا مسئلہ ہے۔۴۔مہر غلام عباس لالی نے کہا :۔