تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 241
تاریخ احمدیت۔جلد 26 241 سال 1970ء ”مرزائیوں کو اسلام دشمن اور خارج از اسلام سمجھتا ہوں۔میری خواہش ہے کہ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔میں اسمبلی میں جا کر اسی مقصد کا بل بھی پیش کروں گا۔اگر خداوند تعالیٰ نے میری کوششوں کو بار آور کیا تو میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی سعادت نہ ہوگی اور میں اسی کو اپنی بخشش کا وسیلہ سمجھوں گا“۔نیز کہا۔165 میں حق و باطل کا معرکہ لڑ رہا ہوں۔میں انتخاب میں اس لئے کھڑا ہوا ہوں کہ محمد عربی میوے کے اعزاز خاتمیت کا تحفظ کروں“۔166- جماعت اسلامی پاکستان کے عزائم ، فتاوی ، جوش و خروش اور بلند بانگ دعاوی ۱۔مولوی گلزار احمد صاحب مظاہری ناظم اعلیٰ جمیعت اتحاد العلماء نے کہا:۔167 جماعت اسلامی برسراقتدار آنے پر احمد یہ فرقہ کو اقلیت قرار دے گی۔۲۔جماعت اسلامی کے رسالہ ترجمان القرآن نے انتخابات کے ایام میں جھوٹ کے وجوب کا فتویٰ جاری کرتے ہوئے لکھا:۔اگر سچ بولنے سے کوئی بڑی خرابی رونما ہو جاتی ہو تو فقہاء نے اس موقع پر جھوٹ بولنے کی آزادی دی ہے۔عمومی نے الا شباہ والنظائر کی شرح میں اس مسئلہ پر تفصیلی کلام کیا ہے کموی کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جھوٹ بولنا تین مواقع پر جائز ہے۔لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے۔جنگ کے اندر۔بیوی کے سامنے اس کی اصلاح کے پیش نظر۔اس جھوٹ سے مراد کذب صریح نہیں ہے بلکہ تو ریہ اور کنایہ سے کام لیا جانا چاہیے۔یہ قول بھی منقول ہے کہ کسی حق کو زندہ کرنے کے لئے یا کسی ظلم کو رفع کرنے کے لئے بھی کذب مباح ہے بلکہ اگر کسی شخص کو یہ یقین ہو جائے کہ ظلم سے اس کی نجات صرف جھوٹ بولنے ہی سے ہو سکتی ہے تو اس کے لئے کھلا کھلا جھوٹ بول دینا بھی جائز ہے حتی کہ بعض صورتوں میں تو اس کے لئے جھوٹ بولنا واجب ہوگا“۔۔رسالہ ایشیاء اور انتخاب۔۵ را کتوبر ۱۹۷۰ء خالص جہاد اسلامی کا دن ہے یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقت اسلام کے لئے جہاد ووٹ میں مضمر ہے۔آج تیر و تفنگ اور توپ و ایٹم بم سے زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز ہتھیار ووٹ کا استعمال ہے۔کیا ایک ادنیٰ سے ادنی مسلمان یہ پسند کرے گا کہ اسلام اور کفر کے درمیان جنگ