تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 227 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 227

تاریخ احمدیت۔جلد 26 227 سال 1970ء استقبالیہ تقریب کا آغاز اسٹیج کے فرش پر حضور کے صدر جگہ پر رونق افروز ہونے کے بعد استقبالیہ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا جو جامعہ احمدیہ میں زیر تعلیم گھانا کے یوسف یاسن صاحب نے کی۔بعدۂ جامعہ کے ایک اور طالب علم عبد الحفیظ کھو کھر صاحب نے رشین“ کی نظم ”محمود کی آمین“ کے بعض دعائیہ اشعار خوش الحانی سے پڑھ کر سنائے۔پہلا شعر یہ تھا۔بہار آئی 152 ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں نظم کے بعد سید داؤد احمد صاحب ناظر خدمت درویشاں و پرنسپل جامعہ احمدیہ نے قادیان اور ہندوستان کی دیگر احمدی جماعتوں کا وہ سپاسنامہ سنایا جس میں انہوں نے حضور کی خدمت میں سفر مغربی افریقہ کی نہایت کامیاب و با مراد مراجعت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے دلی جذبات محبت و عقیدت کا اظہار کیا تھا۔اس کے بعد مولانا شیخ مبارک احمد صاحب نے مرکز سلسلہ پاکستان کی مرکزی تنظیموں یعنی صد را مجمن احمدیہ انجمن احمدیہ تحریک جدید، انجمن احمد یہ وقف جدید فضل عمر فاؤنڈیشن، جلس انصارالله مرکز یا در جلسخدام الاحمدیہ مرکزی کی طرف سے سپاسنامہ پیش کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا روح پرور اور ولولہ انگیز خطاب حضور نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں افریقہ میں احمدیہ مشنوں کے قیام اور انتہائی مخلص اور فدائی جماعتوں کے معرض وجود میں آنے اور پھر مغربی افریقہ کے چھ ممالک میں اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے ماتحت رونما ہونے والے غلبہ حق کے نمایاں آثار کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ افریقہ میں اب غلبہ اسلام کی صبح صادق نمودار ہو چکی ہے اور سورج افق سماء پر طلوع ہو چکا ہے یہ سورج اس زمانہ میں ہی نصف النہار پر پہنچ کر پوری شان سے چمکے گا اور دنیا کے گوشہ گوشہ کو منور کر دکھائے گا۔یہ سورج ہمیں گرمی دے رہا ہے اور ہماری زندگیوں میں حرارت پیدا کر رہا ہے چنانچہ ہم غلبہ دین کی شاہراہ پر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور بڑھتے چلے جائیں گے۔یہاں تک کہ دنیا کی ساری اقوام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آجمع ہوں گی۔حضور نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا جن لوگوں کو دنیا نے حبشی کہہ کر ان سے نفرت کی تھی خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز ان تک پہنچادی ہے کہ اب دنیا تم سے نفرت نہیں کرے گی