تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 228
تاریخ احمدیت۔جلد 26 228 سال 1970ء بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے طفیل عزت اور احترام کا مقام تم کو ملے گا۔یہی ہے وہ منادی جو میں نے وہاں کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت وہ اس سے متاثر ہوئے۔حضور نے گھانا اور نائیجیریا میں Leap Forward Programme کے بروئے کار آنے اور راہ میں پیدا ہونے والی بعض آسانیوں اور سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میں وہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑے ڈیم یا بند کی اختتامی تقریب کے لئے لے جایا گیا تھا۔اس بند کا افتتاح عمل میں آچکا ہے اور دریاؤں میں پانی آگیا ہے۔یہ پانی اب آگے ہی آگے بڑھتا اور پھیلتا چلا جائے گا یعنی میرے افریقی بھائی خدا کی راہ میں قربانیاں دیتے ہوئے دنیا کے خطوں میں پھیل جائیں گے۔وہ ہمارے پہلو بہ پہلو اللہ تعالیٰ کی توحید اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن واحسان کے جلوے قریہ قریہ، محلہ محلہ اور گھر گھر لے جائیں گے۔وہ ہمارے پہلو بہ پہلو آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں گے اور اس وقت تک دم نہ لیں گے جب تک کہ دینِ حق ساری دنیا میں غالب نہ آجائے۔تقریر کے آخر میں حضور نے اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ الہی سلسلے سدا بہار پودوں کی مانند ہوتے ہیں جن پر کبھی خزاں نہیں آتی۔فرمایا کہ جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے اس پر کبھی خزاں نہیں آسکتی۔تاہم غلبہ دین کے ضمن میں ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں انہیں پورا کرنا بہر حال ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی بجا آوری کی توفیق عطا فرمائے اور پھر خود ہی ہماری کوششوں میں برکت ڈالے تا کہ ہم اپنی زندگیوں میں یہ خوشکن نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ اسلام ساری دنیا میں غالب آ گیا ہے۔اپنے محبوب آقا کے ساتھ شریک طعام ہونے کا شرف حضور کے اس بصیرت افروز خطاب کے بعد جو قریباً پون گھنٹہ تک جاری رہا دعوت طعام کا آغاز ہوا۔اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک منفردشان کی پرشکوہ دعوت تھی جو نفاست و نظافت کے پہلو بہ پہلو انتہا درجہ کی سادگی اور دینی اخوت و مساوات کی آئینہ دار تھی۔ایک عجیب کیف اور منظر تھا۔ہزاروں احباب اپنے آقا کی معیت میں کسی قسم کی تفریق یا امتیاز کے بغیر مٹی کے برتنوں میں ایک ہی قسم کا کھانا کھا رہے تھے حتی کہ پانی پینے کے لئے بھی مٹی ہی کے آبخورے مہیا کئے گئے تھے۔وہ بیک وقت جسمانی اور روحانی دونوں غذاؤں سے بہرہ ور ہورہے تھے۔جسمانی غذا وہ کھانا تھا جو اس تاریخی موقع پر سب احباب کی خدمت میں پیش کیا گیا۔اور روحانی غذا اسلامی اخوت و مساوات کا وہ روح پرور عملی