تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 222
تاریخ احمدیت۔جلد 26 222 سال 1970 ء قسمت پاتی تھیں اور جو آپ کو اللہ کا پیار اس سے غیر کو محروم پاتی تھیں تو ایک قسم کا اطمینان ہو جاتا تھا۔ایک قسم کی سستی واقع ہو جاتی تھی۔آپ سمجھتیں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس سے زیادہ کوشش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس میں شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کا تھوڑا پیار بھی بہت ہے جسے اللہ تعالیٰ کا تھوڑا سا پیار بھی مل گیا گویا اسے ساری دنیا مل گئی۔بہر حال شروع میں آپ کا کسی کے ساتھ مقابلہ نہیں تھا یعنی پہلی نسل میں کوئی آپ کے مقابلے پر نہیں تھا۔دوسری نسل میں کمزوری پیدا ہو گئی۔اب آپ کو جھنجھوڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے رقیب بڑی کثرت سے پیدا کر دئے ہیں یہ افریقہ کی جماعتوں کی عورتیں پیچھے سے گھوڑا دوڑاتے ہوئے آئی ہیں ابھی آپ تک نہیں پہنچیں لیکن اگر آپ نے سستی دور نہ کی اور اپنے گھوڑوں کو ایڑی نہ لگائی اور انہیں وہپ (Whip) (چابک) سے تیز نہ کیا تو وہ آپ سے آگے نکل جائیں گی۔پہلے آپ کے ساتھ آملیں گی اور پھر آپ سے آگے نکل جائیں گی۔میں اس افریقی بہن کا پہلے ذکر کر چکا ہوں جس نے ۳۵/ ۳۰ ہزار پونڈ جس کا مطلب یہ ہے کہ چھ سات لاکھ روپیہ خرچ کر کے اجے بوادڈے میں جامع مسجد تعمیر کروائی ہے۔ہماری یہ احمدی بہن دیگر چندے بھی دیتی ہے ان کے علاوہ ایک مسجد کے لئے چھ سات لاکھ روپیہ خرچ کر دیا۔میں ذاتی طور پر یہاں ایسی احمدی مستورات کو جانتا ہوں البتہ وہ تھوڑی ہیں گنتی کی چند ہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر وہ چاہیں تو ان میں ایک ایک عورت چھ چھ سات سات لاکھ روپے چندہ دے سکتی ہے مگر وہ نہیں دے رہیں افریقہ میں عورتوں نے اتنی رقم چندہ میں دینا شروع کر دی ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ مجموعی طور پر ابھی ان کی تربیت ایسی نہیں ہوئی کہ جتنی مجموعی طور پر آپ کی ہو چکی ہے لیکن ان کی تربیت ہو رہی ہے اور وہ تربیت قبول کرنے کے لئے آپ سے زیادہ سنجیدہ ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے میں اس سے انکار نہیں کرتا۔ساڑھے تین سال کی ایک بچی اس کو پوری عقل نہیں ہے دو تین گھنٹے جلسے میں اس طرح بیٹھی رہی کہ اس نے اپنی ٹانگ تک نہیں ہلائی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن اس کے دل کے اندرفرشتے نے کہا آرام سے سنجیدگی سے بیٹھو اور برکت حاصل