تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 221
تاریخ احمدیت۔جلد 26 221 سال 1970ء سے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیار کو کچھ اس طرح حاصل کیا کہ جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔اللہ تعالیٰ انہیں اسی طرح بشارتیں دیتا تھا جس طرح مر دوں کو دیتا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان پر اسی طرح نازل ہوتے تھے جس طرح مردوں پر نازل ہوتے تھے۔جس طرح مرد اور عورت کے دل میں خدا اور رسول کے لئے محبت میں کوئی فرق نہیں تھا اسی طرح اللہ کے پیار میں بھی مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں تھا سارے ہی اس کے عاشق بندے اور بندیاں تھیں۔سارے ہی اس کی محبت اور رضا کے مستحق اور اس کی رضا کو پانے اور اس کی رحمتوں کے جلوے دیکھنے والے تھے۔جس طرح مردوں کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اسی طرح عورتوں کی دعائیں بھی قبول ہوتی تھیں۔کیا مخلوق تھی یہ ؟ انسان سوچتا ہے اور حیران ہوتا ہے۔مرد بھی ایسے عورتیں بھی ایسی کہ دنیا نے ہزار کوشش کی مگر ان کی توجہ کو اپنی طرف نہیں پھیر سکی۔اس لئے کہ جس محبت میں وہ مست تھے اس کو چھوڑنے کے لئے وہ تیار نہیں تھے۔پس قرون اولیٰ کی مسلمان مستورات نے اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار اور عشق کے جو نمونے دکھائے ہیں پہلی امتوں میں سے کسی گروہ نے وہ نمونے نہیں دکھائے“۔حضور نے اپنے اس پر اثر اور ولولہ انگیز تقریر کے دوسرے حصہ میں خواتین احمدیت کو ایک زبر دست اختباہ بھی کیا۔چنانچہ فرمایا:۔اس وقت میں آپ کو ایک تنبیہ بھی کرنا چاہتا ہوں۔آج سے کچھ عرصہ پہلے مثلاً ۱۹۴۵ء کا زمانہ لو اور اس وقت امت محمدیہ کے غلبہ کے لئے اور ایک مضبوط جماعت کو قائم کرنے کے لئے اور دلوں کے یقین کو پختہ اور مستحکم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے پیار کے جو جلوے جماعت احمدیہ کو دکھا رہا تھا وہ زیادہ تر صرف برصغیر پاک و ہند تک محدود تھے۔شاذ کوئی بیرونی جماعتیں تھیں ان کو بھی دکھا تا تھا لیکن زیادہ تر برصغیر کی جماعتیں تھیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضا کے جلوے دیکھتی تھیں۔اس لئے آپ کا مقابلہ کسی سے نہیں تھا اور اگر آپ کو اللہ تعالیٰ کا تھوڑا فضل بھی مل جاتا تھا تو آپ نہ یہ اندازہ کر سکتی تھیں کہ ہمیں جو ملنا تھا وہ ملا یا نہیں ملا اور بڑی خوش ہو جاتی تھیں۔آپ غیر کو دیکھتی تھیں اور اس کے مقابلے میں خود کو زیادہ خوش