تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 223
تاریخ احمدیت۔جلد 26 223 سال 1970ء کرو۔آپ کے دس سال کے بچے بچیاں کیا اس طرح سنجیدگی کے ساتھ عام طور پر بیٹھتے یا بیٹھ سکتے ہیں؟ میرے نزدیک جواب نفی میں ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ آپ سے آگے نکل گئیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ انتہائی سنجیدگی سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ آپ سے آگے نکل جائیں جس وقت اللہ کی محبت کے جوش میں ایثار اور قربانی میں خدا کی راہ میں زندگیوں کو فنا کر کے وہ خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول میں اپنے نفوس کے گھوڑوں کو ایڑیاں لگاتے ہوئے خولہ کی طرح بجلی کی مانند آپ سے آگے نکل گئیں تو خدا تعالیٰ انہیں آپ سے زیادہ پیار دے گا۔آپ کی خدا تعالیٰ سے نہ کوئی رشتہ داری ہے اور نہ اجارہ داری تم جتنی اپنے رب سے محبت کرو گی اتنے فضل اس سے حاصل کر لو گی۔جتنی اس کی راہ میں قربانیاں دو گی اتنے اس سے انعام حاصل کر لو گی۔150 لوگی“۔اجتماع مجلس انصاراللہ مرکزیہ انصار اللہ مرکزیہ کا سالانہ اجتماع ۲۳، ۲۴، ۲۵ اکتوبر کو دفتر انصار اللہ مرکزیہ کے وسیع احاطہ میں ذکر الہی اور انابت الی اللہ کے روح پرور ماحول میں منعقد ہوا۔خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے مرکزی اجتماعات کی طرح اس اجتماع کی حاضری میں بھی گذشتہ سال کی نسبت غیر معمولی اضافہ ہوا۔چنانچہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی ۴۶۵ مجالس کے ۹۲۵ نمائندگان، ۱۷۷۵ راراکین اور ۶ ۲۱۵ زائرین نے شرکت کی۔اس موقع پر مبنی سے محمد رمضان صاحب اور مشرقی پاکستان سے مولوی محمد صاحب (امیر جماعت احمدیہ مشرقی پاکستان ) بھی موجود تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا افتتاحی خطاب سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اپنے ولولہ انگیز افتتاحی خطاب میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معرفت اور بصیرت سے لبریز ارشادات کی روشنی میں بتایا کہ آئندہ نسلوں کی تربیت ہماری عظیم ذمہ داری ہے اور اس کو ادا کرنے کے لئے ایمان کے درج ذیل چار بنیادی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔ا۔خالص ایمان جس میں دنیا کی کسی قسم کی ملونی نہ ہو۔۲۔جو ہر قسم کے نفاق سے پاک ہو۔۳۔کسی قسم کی بزدلی سے آلودہ نہ ہو۔۴۔اس میں کامل اطاعت کا رنگ پایا جا تا ہو۔