تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 213
تاریخ احمدیت۔جلد 26 213 سال 1970ء ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ترین روحانی فرزند تھا جس اکیلے کو آپ نے اپنی امت میں سے کروڑوں اولیاء اللہ میں سے اپنے سلام کے لئے منتخب کیا۔ہم اس حقیقت پر قائم ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں۔ہمارے مال، ہماری دولت ہماری نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ہماری جانیں ، ہمارے نفوس ، ہماری قوتیں، ہماری استعدادیں، ہمارے ذہن، ہماری عزتیں غرضیکہ جو کچھ بھی کسی کی طرف منسوب ہوسکتا ہے وہ ہماری طرف منسوب نہیں ہوتا بلکہ ہمارے آقا ﷺ کی ملکیت اور اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔فرمایا کہ اس عارضی زندگی میں ہماری حیات اور بقا کا مقصد صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت، عظمت اور جلال دنیا میں قائم ہو۔اسی کے لئے ہم زندہ ہیں اور اسی کے لئے اور اسی جدو جہد میں ہم اس دنیا سے گزر جائیں گے اور ہمارے بعد ہماری نسلیں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہاتھ میں لے کر دنیا میں بلند سے بلند تر کرتی چلی جائیں گے۔اس کے بعد حضور نے واضح فرمایا کہ خدام الاحمدیہ کا قیام بھی اسی غرض سے ہوا کہ آنے والی نسلوں کی تربیت اس رنگ میں کی جائے کہ وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے قربانیاں دیتی چلی جائیں لیکن جس طرح انسان کے جسم کو بیماری لگ جاتی ہے اسی طرح بعض اوقات جماعتی جسم کو بھی بیماریاں لگ جایا کرتی ہیں۔خدام الاحمدیہ کا بھی ایک جسم ہے اور ایک روح ہے اس کی تنظیم کو بھی بیماریوں کا خطرہ لاحق ہے اور کبھی کبھی اس کی تنظیم بیمار بھی ہوتی رہی ہے حضور نے خدام الاحمدیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔تین سال (۶۴ تا ۶۶ء) کا عرصہ سخت بیماری کا آپ پر گذرا ہے بیماری کے اس تین سالہ دور کا اگر ہم جائزہ لیں اور اجتماع میں سال بہ سال شمولیت کرنے والی مجالس کے اعداد وشمار پر نگاہ ڈالیں تو پوزیشن یہ بنتی ہے۔سال شرکت کرنے والی مجالس کی تعداد سال شرکت کرنے والی مجالس کی تعداد ١٩٦٣ء ۲۱۰ ۱۹۶۷ء ١٩٦٤ء ۲۰۱ ١٩٦٨ء ۱۹۶۵ء (اس سال اجتماع منعقد نہیں ہوا) ١٩٦٩ء ١٩٦٦ء 1+1 ۱۹۷۰ء ۲۲۶ ۲۳۵ ۲۴۷ ۴۰۱