تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 212
تاریخ احمدیت۔جلد 26 212 سال 1970ء ہیں (۱) خوش خلقی اور خندہ پیشانی (۲) حلم (۳) کرم (۴) عفت (۵) تواضع (۶) انکسار (۷) خاکساری (۸) ہمدردی مخلوق (۹) پاک باطنی (۱۰) اکل حلال (11) سچی بات کہنا (۱۲) پر ہیز گاری۔حضور نے اپنی تقریر میں ان بارہ اوصاف پر تفصیل سے روشنی ڈال کر ان میں سے ہر ایک کے حقیقی مفہوم اور اس کے عملی تقاضوں کو بالوضاحت بیان فرمایا اور خدام الاحمدیہ کو اس بارہ میں نہایت زریں ہدایات سے نوازا اور انہیں تلقین فرمائی کہ وہ اپنے آپ کو ان اوصاف جمیل سے متصف کر کے حقیقی خادم بنیں۔بعد ازاں حضور کی یہ انقلاب انگیز تقریر شعبہ تربیت مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے ایک بچے اور حقیقی خادم کے بارہ اوصاف“ کے نام سے شائع کر دی۔مجلس اطفال الاحمدیہ سے خطاب حضور نے اجتماع کے دوسرے روز احمدی بچوں ( مجلس اطفال الاحمدیہ مرکز یہ کا اجتماع ” ایوان محمود میں انعقاد پذیر ہوا) سے ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب وہ زمانہ گذر گیا جب برصغیر کے احمدی بچے سمجھتے تھے کہ دینی روح اور قربانی میں کوئی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے افریقہ میں ایسے بچے پیدا ہو گئے ہیں جو تمہیں زبان حال سے چیلنج دے رہے ہیں کہ ہمارا مقابلہ کرلو۔حضور نے بچوں کو متنبہ کیا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ اپنی عمدہ تربیت اور قربانیوں کی وجہ سے افریقہ کے بچے تم سے آگے بڑھ جائیں اور تم پیچھے رہ جاؤ۔پس اب تمہارے ہوشیار اور بیدار ہونے کا وقت ہے۔حضور نے کئی واقعات بیان کر کے واضح فرمایا کہ اب افریقن بچے اپنی تربیت اور سنجیدگی واخلاص میں کسی طرح تم سے کم نہیں اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستانی بچے نیکیوں میں تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔خدام سے اختتامی خطاب حضور انور کا خدام احمدیت سے اختتامی معرکہ آراء خطاب ایک خاص عظمت و شوکت کا حامل تھا جس کے آغاز میں حضور نے فرمایا کہ میں اپنے عزیز بچوں کو آج زندگی کی بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں۔وہ یہ کہ ہم جو احمدیت کی طرف منسوب ہوتے ہیں، ہم جو خود کو مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا فرد سمجھتے ہیں، ہم جو اس کی اطاعت کا جو اپنی گردن پر رکھنے والے ہیں جو