تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 199 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 199

تاریخ احمدیت۔جلد 26 199 سال 1970ء شلنگ سالانہ مقرر ہو گیا ہے اور یہ لیز ۲۱ سال کے لئے ملی ہے۔دنیا میں عام طور پر ۹۹ سال یا ۵۰ سال کی لیز ہوتی ہے میں نے اپنے مشن کو کہا تھا کہ ۲۰ سال سے اوپر کا Period ( پیریڈ ) ملے تو لے لو۔مجھے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ۲۰ سال میں انشاء اللہ ان ملکوں میں ایک انقلاب عظیم رونما ہو چکا ہوگا۔پھر ہمارے لئے لیز پر لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا اور ہمیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔چنانچہ اس کے علاوہ ہمیں گیمبیا میں ہیلتھ سنٹر کے لئے مزید تین جگہ زمین مل گئی ہے ایک جگہ تو ایک سیٹلائٹ ٹاؤن بن رہا ہے، جہاں ہمارے سابق گورنر جنرل سنگھاٹے نے بھی کوٹھی بنوائی ہے اس کے قریب ہی برلب سڑک سپیشلسٹ سنٹر کے لئے گورنمنٹ نے جگہ دے دی ہے۔جب میری اس وزیر صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ مجھے کہنے لگے کہ بالکل باتھرسٹ کے اندر تو آپ زمین کا مطالبہ نہیں کر رہے؟ میں نے کہا نہیں، میرا مطالبہ یہ ہے کہ یہ جگہ باتھرسٹ سے دس میل کے اندر اندر ہو اور پختہ سڑک پر ہو۔وہاں سڑکیں بہت کم ہیں۔سارے ملک میں ایک دوسر کیں ہیں ویسے یہ ملک بھی بہت چھوٹا ہے لیکن آب و ہوا کے لحاظ سے بڑا اچھا ہے۔غرض یہاں بھی ہیلتھ سنٹر کھولنے کے لئے حسب منشاء زمین مل گئی ہے۔لیکن اب وہ وزیر صاحب پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ کہاں ہیں تمہارے ڈاکٹر ؟ ان کے کا غذات آنے چاہئیں۔ان کے ساتھ میں نے وعدہ کیا تھا تین سپیشلسٹس کا یعنی ایک Eye Specialist کا، ایک اچھے ڈینٹسٹ کا اور ایک ٹی بی سپیشلسٹ کا۔آپ یہ ، یہ سن کر حیران ہوں گے کہ گیمبیا کے سارے ملک میں ایک بھی Eye Specialist نہیں ہے اگر وہاں کسی آدمی کی نظر کمزور ہورہی ہو تو بیچارے کو اپنی آنکھ دکھانے کے لئے سینیگال کے دارالخلافہ ڈا کار جانا پڑتا ہے اور پھر جو نمبر بنتا ہے اسے وہ لندن بھجواتا ہے اور وہاں سے عینک بنواتا ہے چنانچہ جو عینک ہمارے ہاں دس بارہ روپے میں بن جاتی ہے اس پر اسے کم و بیش پانچ پونڈ خرچ کرنے پڑتے ہیں اور دوسرے اخراجات مثلاً دوسرے ملک میں جانا وغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔پھر اسی طرح سارے ملک میں کوئی اچھا ڈینٹسٹ بھی نہیں ہے۔ان کے