تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 200
تاریخ احمدیت۔جلد 26 200 سال 1970ء بڑے ہسپتال میں ایک ٹی بی سنٹر تو ہے جس میں نارتھ یا شاید ساؤتھ کوریا کے دو ڈاکٹر کام کرتے ہیں مگر وہ بھی سال میں چھ مہینے چھٹی پر رہتے ہیں اور اس چھ ماہ کے عرصہ میں وہاں ٹی بی کا علاج کرنے والا کوئی ماہر ڈاکٹر نہیں ہوتا۔میں نے ان سے کہا تھا کہ ہمیں کافی زمین دو کیونکہ ہمیں ٹی بی والا حصہ بہر حال الگ رکھنا پڑے گا۔چنانچہ انہوں نے اس غرض کے لئے بڑی اچھی زمین دے دی ہے۔آنکھوں کے ماہر کی ضرورت میں چاہتا ہوں کہ ہمیں ایک ایسا آئی سپیشلسٹ مل جائے جو وہاں دکان بھی کر سکے کیونکہ عینک کے لئے لندن بھیجوانے والا قصہ تو نہیں رہنے دینا۔ایسا ڈاکٹر ہونا چاہیے جو نظر ٹیسٹ بھی کرے، عینک بنا بھی دے اور لگا بھی دے۔ڈینٹسٹ تو ہمارے پاس دو اچھے آگئے ہیں۔لندن میں ڈاکٹر ولی شاہ صاحب جو مشرقی افریقہ کے اقبال شاہ صاحب کے بیٹے ہیں اور بڑے اچھے ڈینٹسٹ ہیں انہوں نے وہاں کئی ہزار پونڈ خرچ کر کے اپنا ایک کلینک بنارکھا ہے جس میں دو ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے ہیں اور ان کا بڑا اچھا کام چل رہا ہے۔میرے خیال میں وہ چار پانچ سو پونڈ ماہانہ کمارہے ہیں وہ بڑے مخلص احمدی ہیں۔ان کا مجھے خط آیا تھا کہ میرے لیے کیا ہدایت ہے؟ کیا میں اپنا کلینک بیچ دوں؟ میں نے ان سے کہا ہے کہ ابھی نہ بیچو۔ان کے علاوہ دانتوں کے ایک اور ڈاکٹر نے بھی وقف کر دیا ہے۔بہر حال ڈینٹسٹ تو ہمیں مل گئے ہیں۔ٹی بی کے ڈاکٹر بھی مل گئے ہیں، البتہ آئی سپیشلسٹ کی فوری ضرورت ہے۔میری ایک اور تجویز ہے اور وہ سرجری والے حصے کے متعلق ہے کہ جب ہمارے بہت سے سنٹر بن جائیں تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارے ڈاکٹر یہ جو چار مہینے انگلستان میں جا کر ضائع کرتے ہیں اس میں سے دو مہینے وہاں جا کر کام کریں ویسے بھی مشورہ ہوتا ہے طبی آلات ہیں۔مثلاً ٹی بی کے لئے میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ایکسرے پلانٹ بھجوائیں گے یعنی مکمل لیبارٹری ہوگی اور ایسا کرنے میں کوئی دقت نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے مگر ہمارا پیسہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔پیسے ضائع