تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 195 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 195

تاریخ احمدیت۔جلد 26 195 سال 1970ء ہوئی۔کلاس میں کل ہیں اضلاع کی تہتر جماعتوں کی طرف سے طلباء شامل ہوئے۔کلاس میں ۲۲۶ طلباء اور ۲۸۷ طالبات نے حصہ لیا۔کلاس کا افتتاح حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مورخہ یکم اگست ۱۹۷۰ء کو مسجد مبارک میں فرمایا۔137 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا افتتاحی خطاب حضور انور نے اس موقع پر طلباء وطالبات کو ایک نہایت روح پرور اور بصیرت افروز افتتاحی خطاب سے نوازا۔حضور انور نے طلباء وطالبات کو یہ زریں نصیحت فرمائی کہ وہ خلیفہ وقت کے ساتھ مل کر اور یک جان ہو کر غلبہ اسلام کی عظیم جدوجہد میں حصہ لیں اس جدوجہد کی تیاری کے دوز بر دست ذریعے ہیں۔ایک دلائل و براہین اور دوسرے آسمانی نشانات۔یہی دو ذریعے ہیں جن سے اس زمانہ میں اسلام کا غلبہ مقدر ہے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس زمانہ میں اسلام کو غالب کرے گا۔لیکن اس وعدہ کو پورا کرنے کی خاطر اور ہمیں ثواب پہنچانے اور اپنی رضا کی جنتوں میں ہمارے لئے محل تیار کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے ہم سے قربانیوں کا مطالبہ کیا ہے۔حضور انور نے فرمایا کہ ربوہ ہمار ا مرکز ہے یہاں پر بڑی کثرت سے مخلص اور فدائی احمدی ہیں۔لیکن جہاں مخلصین آباد ہوں وہاں بعض منافق بھی ہوتے ہیں۔آپ کو چاہئیے کہ ان سے ہوشیار رہیں کیونکہ جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے بظاہر ان کا نعرہ یہ ہوتا ہے کہ ہم منافق نہیں بلکہ مصلح ہیں۔لیکن مومن کی فراست بڑی تیز ہوتی ہے وہ فوراً انہیں پہچان لیتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نفاق کا شیطان انہیں دھوکہ دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔حضور انور نے اپنے سفر مغربی افریقہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہاں کے حالات کا مشاہدہ کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسلام اور عیسائیت کی آخری جنگ افریقہ کی سرزمین میں لڑی جائے گی۔یہ جنگ ظاہری تلوار سے نہیں بلکہ دلائل کی تلوار سے اور آسمانی نشانات کی مدد سے لڑی جائے گی۔حضورانور نے کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بار باراور التزام کے ساتھ پڑھنے کی بھی نصیحت فرمائی۔حضور انور نے فرمایا ہمیشہ یاد رکھو کہ اسلام کا غلبہ ایسے ہی وجودوں کے ذریعہ مقدر ہے جو دعائیں کرنے والے اپنے تئیں لاشی محض سمجھنے والے اور زندہ خدا سے زندہ تعلق قائم کرنے والے ہوں گے۔تب ان کے علم و عمل میں اللہ تعالیٰ غیر معمولی برکت پیدا کر دے گا۔