تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 193
تاریخ احمدیت۔جلد 26 193 سال 1970 ء ۲۰۰۲ صفحہ ۷۔اصل مضمون میں سال سفر ۱۹۶۹ء چھپ گیا ہے جو سہو ہے۔” گورے دیس میں جناب ثاقب صاحب کے قلم کا لکھا ہوا نہایت معلومات افروز سفر نامہ انگلستان ہے جو اخبار لاہور کی انیس اقساط میں ۴ استمبر ۱۹۷۰ء سے ۲۵ جنوری ۱۹۷۱ ء تک کے شماروں میں منظر عام پر آیا اور نہایت درجہ ذوق و شوق اور دلچسپی سے پڑھا گیا) قیام انگلستان کے دوران آپ کو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب جیسی عظیم شخصیت ۵ دن ہم سفر ہونے کی سعادت بھی نصیب ہوئی جسے آپ کی زندگی کا ایک بہترین سرمایہ کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔آپ خود تحریر فرماتے ہیں: ” پاکستان کے اس جلیل و ذہین فرزند کے ہمراہ شب و روز پورے پانچ دن ہمسفر رہنے کی سعادت مجھے زندگی میں پہلی مرتبہ نصیب ہوئی تھی۔اور شاید یہ آخری بھی ہو کہ وقت ایک مور بے مایہ کو ہمدوش سلیمان ہونے کی دریا دلی کا مظاہرہ کہاں روز روز کرتا ہے۔مجھے اس سفر پر روانہ ہونے سے قبل اس لئے بھی گھبراہٹ تھی کہ یاروں سے سن رکھا تھا چودھری صاحب محترم بڑے کم گو ہیں وہ ہمیشہ اپنی سطح سے بات کرتے ہیں اس لئے یہ اندازہ کرنا سخت مشکل ہوتا ہے کہ کون سی بات کس وقت ان کی ناگواری طبع کا باعث بن جائے گی اور اس کے بعد گفتگو کا ذائقہ جھنجلا ہٹ کے باعث کسیلا ہو جائے گا لیکن اپنے اس ذاتی خوشگوار تجربہ معیت سفر کے بعد میں علی وجہ البصیرت کہ سکتا ہوں کہ یہ چودھری صاحب محترم کی طبیعت و افتاد کا بڑا غلط اور اوچھا مطالعہ ہے۔ان سا خوش اخلاق و خوش گفتار بے تکلف رفیق سفر اللہ ہر ایک کو عطا فرمائے جو اپنے ساتھی کی (خواہ وہ کسی طبقے یا درجے کا مجھ ایسا خاک نشین ہی کیوں نہ ہو) ہر جائز خواہش کا دل و جان سے احترام کرتا اور اس پر اپنے جذبات قربان کر دیتا ہے ان کے تعلق کی بنا ایثار طبی پر نہیں ایثار پیشگی“ پر ہے وہ اپنے رفیق سفر کو ہر رنگ میں خوش و خرم رکھنے کے لئے مضطرب رہتے ہیں اور اس کی معمولی سے معمولی خواہش کا بھی (اسے بہت اہم قرار دے کر ) احترام کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ پاکستان میں ان کے عزیزوں رشتہ داروں، حواریوں، شناساؤں اور مداحوں کی ایک تعداد لاکھوں بلکہ کروڑوں تک پہنچتی ہے۔گویا ایک انارا ایک کروڑ بیمار والا معاملہ ہوتا ہے۔اس لئے ان کا التفات کریمانہ اتنے حصوں میں بٹ جاتا ہے کہ احباب کو شنگی کا احساس رہتا ہے اور ان کی دلدار طبیعت کو یہ منظور نہیں ہوتا کہ اس محبانہ سرمایہ کو سارا کسی ایک پر صرف کر کے باقیوں کو