تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 192 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 192

تاریخ احمدیت۔جلد 26 192 سال 1970ء نے فرمایا کہ وہ بھی اس دورہ میں ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ہمارے لئے اس سے بڑھ کر خوشی اور کیا ہو سکتی تھی۔پروگرام طے ہو گیا تو ہم تینوں اور میرا بیٹا منیر احمد یارک شائر روانہ ہوئے۔وہاں بریڈ فورڈ، ویک فیلڈ، لیڈز، ڈیوز بری وغیرہ میں ہماری بڑی جماعتیں ہیں وہاں حضرت ثاقب کے کلام کو سننے کے لئے احمدیوں نے تو آنا ہی تھا کثرت سے غیر از جماعت شعراء اور معززین بھی تشریف لاتے رہے۔غیر از جماعت شعراء نے بھی اپنا کلام سنایا۔یہ پُر لطف سفر ایک ہفتہ سے زائد عرصہ تک جاری رہا۔لندن واپسی پر بی بی سی اردو سروس والوں کا فون آیا کہ ہمیں اخبارات سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت ثاقب زیروی لندن آئے ہوئے ہیں۔ہم انہیں انٹرویو کرنا چاہتے ہیں ان کا کلام خود ان کی زبانی ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ ان سے وقت طے ہو گیا۔پروگرام ریکارڈ ہوا اور اگلے ہفتے نشر ہوا۔غرض ان دنوں انگلستان کے پاکستانی اور بعض ہندوستانی حلقوں میں حضرت ثاقب صاحب کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ان دنوں دن رات میں ثاقب کی معیت کا شرف حاصل کرتا رہا۔ہم دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے اور محبتیں بڑھتی گئیں۔۱۹۶۴ء میں میں نے لندن میں ایک ”بزم شعر و ادب قائم کی تھی میں اس کا بانی صدر تھا۔اس کے زیر اہتمام چند نہایت کامیاب مشاعرے ہو چکے تھے۔جن میں لندن کے نامور شعراء نے اپنا کلام پیش کیا تھا۔محترم ثاقب صاحب کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے ایک شام ثاقب کے ساتھ“ کے عنوان سے ایک محفل مشاعرہ منعقد کرائی۔جس میں لندن کے اکثر مشہور معروف شعراء نے شرکت کی۔بعض شعراء برمنگھم سے بھی آئے۔اس محفل کے لئے میں نے مشن ہاؤس کے قریب ایک خوبصورت ہال بک کروا لیا تھا۔جو وقت مشاعرہ پر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔بہت سارے ہندوؤں اور سکھوں نے بھی شرکت کی۔ایک سکھ شاعر نے اپنا کلام بھی پیش کیا۔مشاعرہ کی صدارت تو میں نے کی لیکن مہمان خصوصی اور حاضرین کی توجہ کا مرکز ثاقب صاحب تھے۔آخر میں ثاقب صاحب نے اپنا کلام پیش کیا اور ہر شعر پر حاضرین سے داد لی۔آخر میں حاضرین کے پر زور اصرار پر حضرت ثاقب نے اپنی مشہور نظم جو آپ نے خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل پاکستان کی موجودگی میں بار بار پڑھی تھی سنائی۔یہ پُر لطف دورہ بالآخر اختتام پذیر ہوا ثاقب صاحب نے واپس جا کر لاہور میں اس دورہ کی روداد ” گورے دیس میں“ کے عنوان سے انہیں اقساط میں شائع کی۔(ہفت روزہ لاہور۱۳ را پریل