تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 190
تاریخ احمدیت۔جلد 26 190 سال 1970ء احباب لاہور کے لئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ فجر احمدیت جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا اس سے وہ بالکل کٹتے جارہے ہیں اور اس ناشکری کی وجہ سے جو انہوں نے مامور وقت جیسی عظیم الشان نعمت کے استخفاف میں کی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت کا ہاتھ ان سے بھی کھینچ لیا ہے۔ان میں سے جو دوست علم وفضل کے دعویدار ہیں ان کے قلم سے بھی گزشتہ ساٹھ ستر سال میں کوئی تحریر اس پالیہ کی پیدا نہیں ہوسکی جس سے مامورِ زمانہ کی عزت دنیا میں بحال رہ سکے۔خدا شاہد ہے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا وجود بڑا بابرکت ہے اور اس وقت کشتی اسلام کی ناخدائی کے لئے آپ ہی ایک مؤثر ذریعہ ہیں جس سے یہ کشتی ڈوبنے سے بچ سکتی ہے۔ہر ایک مخلص احمدی جو احمدیت کو اسلام کا آخری سہارا سمجھتا ہے اس کا یہ فرض ہے کہ وہ خلافت کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے اور اس سے اکتساب نور کرے اور پھر اس نور کو دنیا میں پھیلائے۔احباب لا ہور کو چاہیے کہ جماعتی تنگ دلی اور تعصب سے بالا تر ہو کر ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا ہاتھ کس کے ساتھ ہے۔مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ معاصر عزیز پیغام صلح مجھے پھر اپنی زہر چکانی کا مورد بنائے۔حق بات حق ہے۔اور اگر ہم نے حق بات کہنی بھی نہیں سیکھی تو اپنے آپ کو احمدی کہنا محض خود فریبی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میری یہ مخلصانہ معروضات جماعتِ لاہور کے فہمیدہ اور غیر متعصب حضرات کے لئے مشعل راہ بن جائیں۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسا ادارہ جیسے دو کنگ مسلم مشن ہے خلافت کے زیر اہتمام کام کرتا تو اب تک آدھا انگلستان مسلمان ہو گیا ہوتا۔وہ موقعہ تو خیر ہاتھ سے جاتا رہا اب اللہ تعالیٰ کی مشیت نے یہی پسند فرمایا ہے کہ سفید پرندوں کی بجائے کالے پرندے غول در غول احمدیت میں داخل ہوں اور افریقہ کا نوعمر اور تنومند بر اعظم احمدیت کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائے۔اس کے آثار بھی حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے حالیہ دورہ افریقہ کے بعد کھلے طور پر نظر آنے لگے ہیں۔احباب لا ہور کو بھی چاہیے کہ فتح افریقہ کی اس مہم میں بھی خلافت کے ہاتھ مضبوط کریں اور اس سعادت میں بھی حصہ دار بہنیں۔یہ وہ دلی تڑپ ہے جو ہمارے دلوں میں ہونی چاہیے۔اگر ہم نے واقعی فتح اسلام کو اپنے تمام مفادات پر مقدم کیا ہوا ہے۔واخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العلمين۔محمد یعقوب خان ۷۰-۹- 134