تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 176 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 176

تاریخ احمدیت۔جلد 26 176 سال 1970ء حضور نے فرمایا کہ تبلیغ و تربیت کے لئے ہر جگہ مسجد کا ہونا ضروری ہے البتہ یہ خیال درست نہیں ہے کہ جب تک دو چار لاکھ روپیہ نہ ہو جائے مسجد تعمیر نہیں ہو سکتی۔مسجد نبوی ﷺ جیسی با برکت اور مقدس مسجد کی ابتداء کھجور کے پتوں کی چھت سے ہوئی تھی۔ہمیں بھی سر دست کھجور کے پتوں کی چھت سے مسجدیں بنا دینی چاہئیں۔کیونکہ دراصل اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا مقصود ہے نمائش کرنا تو مقصود نہیں۔آپ نے فرمایا اسی طرح تبلیغ کے لئے قرآن کریم کا سیکھنا سکھانا اور سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بڑا ضروری ہے۔فرمایا مجلس مشاورت کے موقعہ پر نمائندگان کی بڑی دھواں دھار تقریریں ہوتی ہیں کہ قرآن کریم پڑھانے کا انتظام نہیں کیا جاتا لیکن اس مہینہ ربوہ میں جاری ہونے والی فضل عمر تعلیم القرآن کلاس میں پاکستان کی کم و بیش ایک ہزار جماعتوں کے صرف ۴۰ نمائندے شامل ہوئے ہیں۔اگر ہر ایک جماعت سے ایک نمائندہ بھی جاتا تو ان کی تعداد ایک ہزار ہو جاتی۔فرمایا یہ خوشی کی بات ہے کہ اس کلاس میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ عورتوں میں دین سیکھنے کا زیادہ شوق ہے۔مگر ان میں کہیں کہیں بے پردگی بھی پیدا ہوگئی ہے۔ویسے یہ چند استثناء ہیں۔لیکن بعض دفعہ بڑے نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں۔اگر چہ ہزاروں میں سے ایک کے خراب ہونے سے اعتراض کی گنجائش تو نہیں تاہم فکر کی ضرورت تو ہے۔ایسی عورت کسی نیکی کی وجہ سے شاید اللہ تعالیٰ کے غضب سے تو بچ جائے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو حاصل نہیں کر سکتی جس کا ہمیں وعدہ ملا ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ شروع سے اپنی بچیوں پر کڑی نظر رکھیں اور ان کی تربیت سے کبھی غافل نہ ہوں ورنہ بعد میں رونے دھونے اور پریشانیوں کے خط لکھنے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔حضور نے فرمایا ہماری اگلی نسل بڑی اچھی ہے اس کو سنبھالنا اور اس کی کما حقہ تربیت کرنا ہمارا فرض ہے۔ہمارے گھروں میں ہر وقت خدا اور اس کے رسول ﷺ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور ان کے زریں کارنامے ، غرض دین کی باتیں ہوتی رہنی چاہئیں تا کہ ہر وقت دین کی باتیں بچوں کے کانوں میں پڑتی رہیں جس سے ان میں دینداری کی روح پیدا ہو اور اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے مالی اور جانی قربانیوں کی اہمیت ان پر واضح ہوتی رہے۔کیونکہ الہی وعدوں کے مطابق تین صدیوں سے بھی پہلے احمدیت کی نسلاً بعد نسل قربانیوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے نتیجہ میں اسلام کے مکمل غلبہ کی صبح طلوع ہونی ہے۔