تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 159 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 159

تاریخ احمدیت۔جلد 26 159 سال 1970ء ایک قافلہ فتح جنگ سے دو میل آگے تلہ گنگ روڈ پر صبح 9 بجے حضورانور کے انتظار میں پہنچا۔جو نہی حضور انور کی کا ر نظر آئی ایک کارواپس احباب کی اطلاع کیلئے پہنچی اور ایک حضور کے قافلے کے آگے بطور ہراول کے روانہ ہوئی۔حضور انور کا قافلہ ایک بجے کے قریب منزل مقصود پر پہنچا۔امیر جماعت احمدیہ راولپنڈی ضلع مکرم چوہدری احمد جان صاحب اور امیر جماعت اسلام آبا دمکرم چوہدری عبدالحق ورک صاحب نے آگے بڑھ کر استقبال کیا۔ساتھ ہی صف بستہ احباب نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا اور فضا اسلام زنده باده، احمدیت زنده باد ختم المرسلین زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔مصافحہ شروع ہونے سے قبل مکرم چوہدری احمد جان صاحب نے نصرت جہاں ریزروفنڈ کی دوسری قسط ۳۸۵۰۳ روپے کی حضور انور کی خدمت میں پیش کی۔حضور نے کرسی پر رونق افروز ہونے کے بعد مکرم سید اعجاز احمد صاحب مربی سلسلہ احمدیہ ممبران مجلس عاملہ راولپنڈی اور اسلام آباد کو شرف مصافحہ بخشا۔اس کے بعد جملہ احباب نے شرف مصافحہ حاصل کیا۔حضور بچوں کو پیار بھی فرماتے رہے۔اسی دوران حضرت سیدہ بیگم صاحبہ سے لجنہ اماء اللہ کی قریبا ۵۰ ممبرات نے شرف ملاقات حاصل کیا اور افریقہ کے حالات سنے۔حضور انور بعد از مصافحہ دوستوں کے ساتھ ہی دریوں کے فرش جلوہ افروز ہوئے اور افریقہ کے مختلف واقعات بیان فرمائے۔یہ مجلس آدھ گھنٹہ تک جاری پر رہی۔جو نہی حضور انور مع قافلہ ایبٹ آباد کے لئے روانہ ہونے لگے تو جملہ احباب سڑک پر دورویہ کھڑے ہو گئے اور فضا پھر نعروں سے گونج اٹھی۔حضور انور گذرتے ہوئے کار میں سے ہاتھ ہلا ہلا کر احباب کے السلام علیکم کا جواب دیتے رہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا سفرا ایبٹ آباد ایبٹ آباد پاکستان کے صوبہ سرحد میں ہزارہ ڈویژن کا مشہور شہر اور ملک کا خوبصورت اور صحت افزا مقام ہے جسے سیاحوں کی جنت کے صدر دروازے کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔وادی کاغان میں داخلے کے لئے اس شہر کو دروازہ کی حیثیت حاصل ہے۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے گرمی کے موسم میں مغربی افریقہ کے چھ ممالک کا وسیع دورہ فرمایا اور اپنی تمام تر توانائیاں ارضِ بلال کے مکینوں کو پیار دینے اور اپنی دعاؤں، ملاقاتوں، تقریروں اور دیگر دینی و سماجی مصروفیات کے ذریعہ ان کی راہنمائی کے لئے صرف کر دیں۔اس زبر دست مجاہدہ