تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 126 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 126

تاریخ احمدیت۔جلد 26 126 سال 1970ء (۶) مولانا محمد اسماعیل منیر صاحب ۸ جون ۱۹۸۹ء تا ۲۶ / اگست ۱۹۹۵ء (۷) مولانا جمیل الرحمن رفیق صاحب ۲۷ را گست ۱۹۹۵ء تا ۳۰ ستمبر ۱۹۹۸ء نوٹ : یکم اکتوبر ۱۹۹۸ء سے حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے ارشاد کی تعمیل میں دفتر حدیق المبشرین کے فرائض وکالت دیوان تحریک جدیدا دا کر رہی ہے۔119 دفتر کے ریکارڈ کے مطابق مولانا کلیم صاحب سیکرٹری حدیقتر المبشرین نے اخراجات کی منظوری کے لئے سب سے پہلی درخواست ۶ اکتوبر۱۹۷۰ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے حضور پیش کی جس میں فرنیچر اور سٹیشنری کے لئے کل ۹۸۰ روپے مرحمت کئے جانے کی عرضداشت تھی۔حضور نے فیصلہ فرمایا کہ حدیقہ کے اخراجات صدر انجمن اور تحریک جدید نصف نصف برداشت کیا کریں گے۔نیز حضور نے دونوں مرکزی اداروں کو فوری ہدایت جاری فرمائی کہ فی الحال وہ ایک ایک ہزار روپے کا بجٹ حدیقہ کے لئے منظور کریں۔۱/۸ کتوبر ۱۹۷۰ء کو حضور نے حدیقۃ المبشرین کو اپنا اکاؤنٹ امانت تحریک جدیدر بوہ میں کھولنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ابتداء میں چونکہ کوئی باقاعدہ عملہ نہیں تھا اس لئے حضور نے ۷ اکتوبر کو فی الحال نئے شاہدین میں سے ایک یعنی صالح محمد خان صاحب سے بطور کلرک کام لینے کی اجازت عنایت فرمائی۔اانومبر ۱۹۷۰ء کو حضور نے حدیقہ المبشرین کے لئے ایک اکاؤنٹ کلرک کا تقرر منظور فرمایا۔چوہدری محمد ادر میں صاحب عابد ( سابق صدر حلقہ سٹیل ٹاؤن کراچی )۔آپ کے بعد محمد شفیق صاحب اکا ؤنٹنٹ رہے اور پھر ولی الرحمن صاحب سنوری اور سعید اللہ ملہی صاحب یہ خدمت بجالائے ہیں۔اس نئے ادارہ کی بنیاد کے وقت مرکز احمدیت ربوہ کے زیرانتظام ۶۷ امربیان سلسلہ سرگرم عمل تھے جن میں سے ۷ تحریک جدید کے ماتحت بیرونی ممالک میں اور ۷ صدر انجمن احمد یہ کے ماتحت پاکستان میں خدمات بجالا رہے تھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی ہدایات کی روشنی میں ان تمام خدام دین کے الاؤنس اور جملہ مالی امور کا حساب بدستور تحریک جدید اور صدرانجمن احمدیہ کے پاس رہا لیکن اُن کے دیگر امور کا مفصل ریکارڈ حدیقہ المبشرین کے سپرد کر دیا گیا اور آئندہ تقرریاں بھی اسی کی وساطت سے ہونے لگیں۔۱۹۷۰ء میں جامعہ احمد یہ ربوہ کے پندرہ فارغ التحصیل شاہدین حدیقۃ المبشرین کے زیرانتظام آئے۔۱۹۸۸ء اور ۱۹۸۹ء کے سال اس اعتبار سے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں کہ ان سالوں میں