تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 125
تاریخ احمدیت۔جلد 26 125 سال 1970ء حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے ابتداء میں اس ادارے کا نام پول مخلصین رکھا تھا مگر بعد میں اسی سال ماہ دسمبر ۱۹۷۰ ء کے آخر میں بعض احباب کی تجویز پر نام بدل کر حدیقہ المبشرین رکھ دیا۔دفتر کے ریکارڈ کے مطابق ۸ دسمبر ۱۹۷۰ء کو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے حضور کی خدمت میں تحریر کیا کہ پول مبلغین میں ایک لفظ انگریزی کا ہے اور ایک عربی کا ہے اس لئے زیادہ موزوں ہوگا کہ اگر دونوں عربی کے الفاظ ہوں۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے دائرۃ المبشرین“ کا لفظ تجویز کیا۔حضرت خلیفہ اُسیح نے یہ معاملہ جامعہ احمدیہ کے سپرد کر دیا۔جامعہ احمدیہ کے پرنسپل محترم سید داؤ داحمد صاحب مرحوم نے اپنے ادارے کے فاضل عربی اساتذہ (ملک مبارک احمد صاحب، محترم قریشی نور الحق تنویر صاحب) سے مشورہ کے بعد عرض کیا کہ ان کی رائے میں حدیقۃ المبشرین' کا نام مناسب رہے گا۔حضور نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور اس ادارے کا نام حدیقہ المبشرین رکھ دیا گیا۔دفتر کا قیام حضرت خلیفۃالمسیح الثالث نے اگر چہ 19 جون ۱۹۷۰ء کے خطبہ جمعہ میں مبلغین کے پول کے قیام کا اعلان فرمایا تھا لیکن عملاً یہ ادارہ ۲۰ اگست ۱۹۷۰ء کو جاری ہوا۔ابتداء میں اس کا دفتر پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ اسیح کے دفتر کے ایک کمرہ میں قائم کیا گیا۔بعد ازاں اسے قصر خلافت مسجد مبارک کے ساتھ خلافت لائبریری کی پرانی عمارت کے ایک حصہ میں منتقل کر دیا گیا۔سیدنا حضرت خلیفتہ استیج الثالث نے مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب کو ادارہ کا پہلا سیکرٹری مقرر فرمایا۔آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی ہدایات کے مطابق شبانہ روز کوشش سے اس ادارہ کے ابتدائی انتظامات کو عملی شکل دی اور اسے مضبوط بنیادوں پر مستحکم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔آپ کے بعد جو حضرات سیکرٹری حدیقہ المبشرین کے عہدہ پر ممتاز ہوئے ان کے نام یہ ہیں:۔(۱) مولا نا عطاءاللہ کلیم صاحب ۲۰ / اگست ۱۹۷۰ء تا ۱۸/اکتوبرا۱۹۷ء (۲) مولانا شیخ مبارک احمد صاحب ۱۹ راکتو بر ۱۹۷۱ء تا ۳۰ را پریل ۱۹۷۹ء (۳) مولانا فضل الہی انوری صاحب یکم مئی ۱۹۷۹ ء تا ۷ امارچ ۱۹۸۲ء (۴) مولانا محمد شفیع اشرف صاحب ۱۸ مارچ ۱۹۸۲ء تا۲۹ مارچ۱۹۸۹ء (۵) مولانا سلطان محمود انور صاحب ( قائمقام سیکرٹری) ۳۰ مارچ ۱۹۸۹ ء تا ۷ جون ۱۹۸۹ء