تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 93 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 93

تاریخ احمدیت۔جلد 26 93 سال 1970ء آباد- محترم شیخ قدرت اللہ صاحب امیر ضلع جہلم محترم خواجہ محمد امین صاحب امیر ضلع سیالکوٹ محترم حاجی محمد یعقوب صاحب امیر سیالکوٹ شہر محترم میاں محمد اقبال صاحب نمائندہ ضلع گوجرانوالہ محترم چوہدری فتح محمد صاحب نائب امیر لاہور محترم چوہدری انور حسین صاحب امیر ضلع شیخو پورہ محترم چوہدری رشید احمد صاحب امیر ضلع ملتان محترم چوہدری عزیز احمد صاحب امیر ضلع حیدرآباد۔صدق وصفا اور عشق و وفا کے یہ ہزاروں ہزار پیکر استقبال کے راستہ پر فاصلہ فاصلہ سے لگے ہوئے شامیانوں اور سایہ دار درختوں کے نیچے جمع ہو کر حضور انور کی تشریف آوری کا بڑی شدت اور بیتابی سے انتظار کر رہے تھے۔بارہ بجے دوپہر کے بعد سے ان کا اضطراب ملا ذوق و شوق اور ولولہ عشق لمحہ بہ لمحہ بڑھتا چلا جارہا تھا۔ایک بجے کے بعد تو یوں محسوس ہونے لگا کہ اب پیمانہ صبر لبریز ہوا چاہتا ہے۔بہت سے احباب جن کے پاس اپنی موٹر کاریں اور سکوٹر وغیرہ تھے وہ انتظار کے لمحوں کی شدت کم کرنے کے لئے انتہائی ذوق و شوق کے عالم میں اپنی موٹر کاروں میں سوار ہوکر ربوہ سے پنڈی بھٹیاں کی طرف روانہ ہو گئے تا کہ راستہ میں ہی حضور انور کے استقبال کی سعادت حاصل کر کے اور پھر حضور کے قافلہ میں شامل ہو کر حضور کی معیت میں ربوہ واپس کو ٹیں۔انتظار کی گھڑیاں انتہائی سست رفتاری سے گزر رہی تھیں کہ اچانک ایک بج کر بیس منٹ پر محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ و وکیل التبشیر تحریک جدید اپنی علالت طبع کے باعث ایک علیحدہ کار میں پہلے ہی ربوہ تشریف لے آئے۔اگر چہ آپ کی کار استقبال کے مقررہ راستہ سے ربوہ میں داخل نہ ہوئی تھی تاہم آپ کی تشریف آوری کی خبر آن کی آن میں سارے ربوہ میں پھیل گئی۔ہزاروں ہزار احباب کو سڑکوں کے کنارے دھوپ میں کھڑے قریباً نصف گھنٹہ ہوا تھا کہ آخر وہ معین گھڑی اور ساعت سعد جس کا سب کو انتظار تھا آ پہنچی۔پونے دو بجے بعد دو پہر چینوٹ سے آنے والی پختہ سڑک پر دور سے حضور انور کی موٹر کار دوسری بے شمار موٹر کاروں کے جلو میں آتی ہوئی نظر آئی۔جو نہی احباب کی نظر کار پر پڑی احباب میں خوشی و مسرت کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔اسی لمحہ بسوں کے اڈہ پر ا لگے ہوئے لاؤڈ سپیکر سے مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب کی دلکش آواز میں خود انہی کے کہے ہوئے یہ اشعار نشر ہونے شروع ہوئے۔دل حمد سے لبریز ہے سر سجدہ کناں ہے ہر سانس میں جذبات کا اک سیلِ رواں ہے