تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 94 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 94

تاریخ احمدیت۔جلد 26 صد 94 شکر کہ پھر آمد محبوب زماں ہے سرشار مسرت سے ہراک پیر و جواں ہے اے نافلہ مہدی دوراں خوش آمدید سال 1970ء یہ اشعار ہی نہیں بلکہ یہ پوری نظم احباب نے اس روز کئی بارسنی تھی کیونکہ لاؤڈ سپیکر سے یہ نظم وقفہ وقفہ سے بار بار نشر ہو رہی تھی لیکن اس بار سراپا انتظار احباب پر ان اشعار کا عجب اثر ظاہر ہوا۔ان پر وجد کی سی حالت طاری ہونے سے عجب سماں بندھا۔واقعی اُس وقت ہر دل حمد سے لبریز اور ہر سر سجدہ کناں تھا۔اور واقعی جذبات کا ایک سیل ہر سانس میں رواں تھا اور ہر پیر وجواں مسرت سے سرشار ہوکر جھوم رہا تھا۔جو نہی حضور کی کار دوسری بے شمار کاروں کے جلو میں پختہ سڑک سے مڑ کر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی تعمیر کردہ آرائشی محراب میں سے گزر کر فضل عمر ہسپتال کے قریب شہر کی حدود میں داخل ہوئی تمام فضا پُر جوش و فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔حضور کی کار دوسری کاروں کے جلو میں خیر مقدم کے آراستہ و پیراستہ راستہ پر سے آہستہ آہستہ گزر رہی تھی اور دونوں طرف کھڑے ہوئے ہزاروں ہزا ر ا حباب اضطراب ملے کمال درجہ ذوق و شوق کے عالم میں ہاتھ ہلا ہلا کر اور بلند آواز سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ کہ کر حضور کا خیر مقدم کر رہے تھے۔ذوق و شوق کی فراوانی اس لئے تھی کہ انہیں مغربی افریقہ کے کامیاب تبلیغی سفر سے حضور کی مراجعت پر حضور کا استقبال کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی تھی اور کسی قدر اضطراب کا اظہار اس لئے تھا کہ کہیں وہ حضور کے رخ انور کی ایک جھلک دیکھنے سے محروم نہ رہ جائیں۔یہ ایک عجیب دلکش منظر تھا کہ احباب اس حال میں کہ ان کے روئیں روئیں سے محبت ٹپک رہی تھی کسی قدر جھک جھک کر کار کے اندر دیکھتے اور حضور کی زیارت سے مشرف ہوتے ہوئے ہاتھ ہلا ہلا کر سلام عرض کر رہے تھے اور حضور تبسم فرماتے اور راستہ کے دونوں طرف ہاتھ ہلاتے ہوئے کمال محبت و شفقت کے ساتھ ان کے سلاموں کا جواب دے رہے تھے اور زیر لب انہیں دعاؤں سے نواز رہے تھے۔ہزاروں ہزار احباب کے ہاتھوں کا بیک وقت فضا میں بلند ہونا اور کمال درجہ ذوق و شوق کے عالم میں لوگوں کا جھوم جھوم کر سلام عرض کرنا ایک ایسا دلکش منظر تھا کہ جس کی کیف آور یاد کبھی محو نہیں ہو سکتی۔احباب جس خلوص جس محبت اور جس فدائیت کے جذبہ کے ماتحت سلام عرض کرتے اور خوش آمدید کہتے تھے اس سے صاف عیاں تھا کہ صدق وصفا اور اخلاص و وفا کے یہ پیکر خیر مقدم ہی نہیں کر رہے بلکہ جان و دل سے عزیز آقا پر اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔