تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 319
تاریخ احمدیت۔جلد 25 319 سال 1969ء سوال کر کر کے میں انہیں بتلاتا کہ وہ انتہائی غلطی خوردہ ہیں۔جب وہ میرے بتائے ہوئے حوالہ جات میں پڑھتے کہ حضرت عیسی علیہ السلام تو صرف بنی اسرائیلوں کی خاطر آئے تھے۔یا ان کی تعلیم مکمل نہیں بلکہ ان کے بعد ایک سچائی کی روح آئے گی اور انہیں تمام باتیں سکھلائے گی یا بائبل الہامی کتاب نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں تناقض پایا جاتا ہے یا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اسرائیل کے بھائیوں میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسا ایک نبی بر پا ہو گا جس کو ماننا اور جس کی مدد کرنا نہایت ضروری ہوگا تو وہ بڑے حیران رہ جاتے۔ان میں سے بعض میرے گھر آجاتے۔انہی دنوں کی بات ہے کہ آدیاما یو نیورسٹی (Aoyama University) کے ایک طالب علم میرے گھر آئے۔میں نے اسی طریق سے اسے تبلیغ کرنا شروع کی۔وہ ایک دن بھی آیا اور دوسرے دن بھی آیا۔دوسرے دن اس نے مجھ سے کہا کہ آپ میں زبر دست طاقت ہے۔اگر میں ایک بار پھر آیا تو مجھے ڈر ہے کہ میں مسلمان ہو جاؤں گا۔تو میں نے کہا پھر مسلمان ہو جاؤ۔مگر کہنے لگا کہ متحدہ چرچ والوں نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ مجھے امریکہ بھیجیں گے۔اس لئے میں مسلمان نہیں ہونا چاہتا تاکہ میں اس چانس سے محروم نہ ہو جاؤں۔اسی طرح اس گروپ کے بیشمار عیسائی لڑکوں اور لڑکیوں کو تبلیغ کی۔ایک دفعہ مجھے ان کے ایک مرکز میں جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں بیشمار لڑکے اور لڑکیاں تربیت حاصل کر رہے تھے۔ان کے لیڈر نے مجھے بھی دعوت دی کہ میں تقریر کروں۔مجھے اس وقت جاپانی زبان میں مہارت نہیں تھی۔میں نے کہا کہ میں انگریزی میں تقریر کروں گا۔آپ کسی انگریزی دان کو ساتھ کھڑا کر دیں جو ساتھ ساتھ میری تقریر کا جاپانی زبان میں ترجمہ سناتا رہے۔انہوں نے میری بات مان لی۔مگر جب میں نے دیکھا کہ جس جاپانی کو انہوں نے کھڑا کیا ہے وہ صحیح ترجمانی نہیں کر رہا تو میں نے اس سے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں۔میں نے وہی تقریر جو سکول میں کی تھی یہاں بھی کر دی۔سامعین بڑے محظوظ ہوئے۔میں نے اس گروپ کے عیسائیوں سے رابطہ قائم رکھا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ میں بہت جلد جاپانی بولنا سیکھ گیا۔جرمنی نے پاکستان میں سفارت خانہ جرمنی کے ترجمان اطلاعات جرمنی نے مسجد نور فرینکفرٹ کی دو تصاویر کے ساتھ یہ نوٹ لکھا:۔