تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 318
تاریخ احمدیت۔جلد 25 318 سال 1969ء میجر (ریٹائرڈ) عبدالحمید صاحب مبلغ جاپان کو بھی پہلے مبلغین کی طرح شروع میں زبان اور قیام کے سلسلہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم عارضی طور پر ایشیا سنٹر میں جگہ مل گئی اور جاپانی زبان سیکھنے کیلئے آپ نے ۶ ستمبر کو شیبو یا (Shibuya) میں واقع جاپانی سکول میں داخلہ لے لیا۔یہ سکول عیسائیوں نے شروع شروع میں پادریوں کی سہولت کے لئے کھولا تھا تا کہ وہ جاپانی زبان سیکھ کر آسمانی سے عیسائیت کا پرچار کر سکیں۔ایشیا سنٹر میں انگریز ، امریکن ، کینیڈین ، آسٹریلین، افریقن ، رشین الغرض بہت سے ملکوں کے لوگ ٹھہرے ہوئے تھے جنہیں آپ نے اپنی بساط کے مطابق اسلام کا پیغام پہنچانا شروع کر دیا۔جن دوستوں نے دلچسپی کا اظہار کیا ان کے پتے مرکز میں بھجوا دئے اور انہیں بلا تاخیر لٹریچر مہیا کر دیا گیا۔ان لوگوں میں ایک صاحب ڈاکٹر عیسی بھی تھے جو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں پریکٹس کر رہے تھے اور حاجی صابری صاحب (جنوبی کوریا کی مسلم ایسوسی ایشن کے پریذیڈنٹ) کے بھتیجا تھے۔مبلغ جاپان کا بیان ہے " پہلا سمسٹرا بھی ختم نہیں ہوا تھا کہ سکول میں ایک تقریب عمل میں آئی جس میں طالب علموں کو دعوت دی گئی کہ اگر وہ کسی مضمون پر تقریر کرنا چاہیں تو اپنا نام لکھوادیں۔چنانچہ میں نے بھی اپنا نام لکھوا دیا۔میں نے ایک لیکچر مسیح کی آمد ثانی پر تیار کیا۔اسے رومن الفاظ میں لکھ کر اپنے استاد سے اس کی اصلاح کروائی۔سکول کے عملہ نے جاپانی الفاظ کا صحیح تلفظ ادا کرنے کی پریکٹس کروائی۔چنانچہ وہ لیکچر زبانی تیار کر کے دیا۔باہر سے لوگ بھی آئے ہوئے تھے۔طالبعلموں، استادوں، استانیوں اور زائرین سے ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔طالبعلم اکثر یورپین اور امریکن تھے جن میں سے بعض عیسائی مشنری تھے اور بعض ٹورسٹ (سیاح) تھے۔اس لیکچر سے میری کافی حوصلہ افزائی ہوگئی۔اس زمانہ میں شیبو یا ریلوے اسٹیشن کے سامنے ایک کھلی جگہ پر جہاں سے لوگوں کی آمد و رفت کا صبح سے شام تک تانتا بندھا رہتا تھا۔بعض عیسائی لڑکے اور لڑکیاں جاپانی زبان میں بائبلیں لے کر کھڑے رہتے اور انفرادی طور پر لوگوں کو عیسائیت کی تبلیغ کرتے۔میں بھی ان کے پاس کھڑا ہو جاتا اور ٹوٹی پھوٹی زبان میں انہیں تبلیغ کرتا۔یہ فرقہ ایک نئے چرچ سے تعلق رکھتا تھا جس کے بانی ( Reverend Sunmyung Moon) ریورنڈسن میونگ مون ہیں جو جنوبی کوریا کے باشندے ہیں۔ہر روز اس فرقہ کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تبلیغ کرتے۔میں ان کے پاس چلا جاتا اور انہیں کہتا کہ آپ بائبل کے بعض حوالہ جات ایک ایک کر کے پڑھیں جو انہیں میں زبانی بتلاتا۔تو اس طرح