تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 320
تاریخ احمدیت۔جلد 25 320 سال 1969ء 66 فرینکفرٹ کی مسجد نور۔جس کے امام مسعوداحمد جہلمی ہیں جو پانچ زبانیں بڑی روانی سے بولتے ہیں۔ہر ہفتے فرینکفرٹ اور اس کے قرب وجوار کی بستیوں سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے پہنچتی ہے۔بہت سے مسلمانوں کے لئے خواہ وہ مراکش کے ہوں یا انڈونیشیا کے مشرقی افریقہ کے ہوں یا مغربی افریقہ کے، امام مسجد مسعود کی حیثیت ایک مشفق والد ، ہمدرد، بہی خواہ ، تر جمان اور پیر و مرشد کی ہے۔ان کی مسلسل دینی و ثقافتی سرگرمیوں سے جرمن لوگوں میں اسلامی ثقافت و نظریات سے دلچسپی میں اضافہ ہورہا ہے۔اس کے علاوہ ایک خوبصورت مسجد میونخ میں زیر تعمیر ہے جس کا سنگ بنیاد ۱۹۶۷ء میں رکھا گیا تھا۔اس مسجد کی تعمیر میں مشرق و مغرب کے مختلف اسالیب کو نہایت ہی دلکش پیرائے میں سمونے کی کوشش کی جارہی ہے۔مجموعی طور پر وفاقی جمہوریہ جرمنی میں دولاکھ ساٹھ ہزار کے لگ بھگ مسلمان باشندے بستے ہیں۔ان میں ایک بڑی تعداد ۱۹۴۵ء میں سوویٹ یونین سے ہجرت کر کے یہاں چلے آنے والے روسی مسلمانوں کی بھی ہے۔نئے اسلام قبول کرنے والے جرمنوں کی تعدا د وفاقی جمہوریہ کی حدود میں ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔فرینکفورٹ میں جماعت احمدیہ کے قیام اور تعمیر مسجد پر دس سال کا کامیاب عرصہ گذرنے پر ۱۸ ر ا پریل ۱۹۶۹ء کومشن کے زیر انتظام ایک پر وقار تقریب منعقد ہوئی۔اس تقریب کے روح رواں حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب حج عالمی عدالت انصاف ہیگ سے خاص طور پر اس تقریب میں شمولیت کے لئے تشریف لائے اور تین روز تک مشن ہاؤس میں قیام فرمار ہے اور دورانِ قیام دیگر دینی مصروفیات کے علاوہ فرینکفورٹ کے اعلیٰ دینی اور علمی حلقوں میں مؤثر تقاریر کر کے فریضہ اعلاءِ کالمہ اللہ کی بجا آوری کا حق ادا کر دیا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب پروگرام کے مطابق ۷ ار ا پریل کی شام کو ہیگ سے بذریعہ ٹرین فرینکفورٹ تشریف لائے۔اسی شام چوہدری عبداللطیف صاحب انچارج مبلغ جرمنی بھی ہمبرگ سے فرینکفورٹ پہنچ گئے۔۱۸ / اپریل انتہائی مصروفیت کا دن تھا۔صبح 9 بجے سے رات اابجے تک حضرت چوہدری صاحب نے یکساں بشاشت اور خندہ پیشانی کے ساتھ چھ مختلف تقاریب میں شرکت فرمائی۔پروگرام کا آغاز آپ کی ولولہ انگیز تقریر مسیح کی آمد ثانی کے ساتھ ہوا۔یہ تقریر کی تھولک فرقہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہم ادارہ میں تھی جو بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے۔حضرت چوہدری صاحب نے اس موضوع پر ایک پُر مغز اور نہایت معلومات افروز اور فکر انگیز تقریر فرمائی جو