تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 86 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 86

تاریخ احمدیت۔جلد 25 86 سال 1969ء فضل لندن میں لیکچر بھی دے چکے تھے۔مسٹر مراد کے ہاں ۱۹۶۸ء میں چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ مبلغ سوئزرلینڈ اپنے دورہ یوگوسلاویہ کے دوران فروکش ہوئے تھے۔مسٹر مراد کے ہاں دعوت چائے پر صاحبزادہ صاحب کو متعدد مسلمانوں سے ملاقات کرنے اور ان کے سوالوں کے جواب دینے کا سنہری موقع میسر آیا۔یہ دوست جماعت احمدیہ کے کام سے متاثر تھے اور صاحبزادہ صاحب کے دورہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔یہ محفل قریباً دو گھنٹہ تک جاری رہی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور آپ کے کارنامے زیر بحث آئے۔صاحبزادہ صاحب نے حضرت اقدس کی پیشگوئیوں پر روشنی ڈالی اور تفصیل کے ساتھ بتایا کہ حضور کا الہام ” میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا کس شان سے پورا ہو رہا ہے۔مسلمانان زغریب نے صاحبزادہ صاحب کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں قریباً ۵۰ ممتاز مسلمانوں نے شرکت کی۔کھانے کے بعد صاحبزادہ صاحب نے گیارہ بجے شب تک سوال و جواب کی محفل سے پر اثر خطاب فرمایا اور اسلام کی موجودہ حالت ، احمدیت کا اثر ونفوذ اور مغرب میں اسلام کے مستقبل جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔آخر میں زغریب مسلم کمیونٹی کے پریذیڈنٹ صاحب نے آپ کا شکریہ ادا کیا۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جلسہ سالانہ ۱۹۶۹ء کے موقع پر اس کامیاب دورہ کا خصوصی ذکر فر مایا۔83 مجاہدین وقف عارضی کے لئے سر ٹیفکیٹ سید نا حضرت خلیفہ امیج الثالث کے ارشاد مبارک کے مطابق تحریک وقف عارضی کا پہلا سہ ساله دور اس سال ۳۰ ر ا پریل ۱۹۶۹ء کو ختم ہوا اور یکم مئی ۱۹۶۹ء سے دوسرے پنج سالہ دور کا آغاز ہوا۔حضور کے دستخطوں سے ان تمام مخلصین کو خوشنما مطبوعہ سر ٹیفکیٹ بھجوائے گئے جنہوں نے تینوں سال با قاعدہ اس تحریک میں حصہ لیا اور ہر سال کم از کم دو ہفتے وقف کئے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جملہ واقفین میں بیرونی جماعتوں میں جا کر قرآن مجید پڑھانے اور تربیت و اصلاح کرنے میں سب سے زیادہ وقت حضرت حاجی عبد الکریم صاحب مرحوم کراچی نے دیا۔انہوں نے اس تحریک پر نہایت والہانہ طور پر لبیک کہتے ہوئے قریباً اڑھائی سال کے عرصہ میں چوبیس ہفتے لگہی وقف میں گزارے اور نہایت محنت اور خلوص سے فریضہ تربیت ادا فرمایا اور جماعتوں کی