تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 85
تاریخ احمدیت۔جلد 25 85 سال 1969ء الانبیاءمحمد مصطفی ہے کے مقدس تبرکات محفوظ ہیں۔کہا جاتا ہے کہ مصر کے آخری عباسی خلیفہ المتوکل علی اللہ ثالث نے یہ تبرکات نیز حرمین شریفین کی کنجیاں بطور سند خلافت آل عثمان کے فرمانروا سلطان سلیم اول کے سپرد کر دیں اور سلطان سلیم یہ تبرکات مصر سے استنبول لے آئے۔یوگوسلاویہ آپ مورخہ ۲ جولائی کو ترکی سے یوگوسلاویہ کے دارلحکومت بلغراد پہنچے۔پاکستان سے روانگی سے قبل یوگوسلاویہ کے ایک سابق سفیر پاکستان مسٹر ولا دوشستن (Vlado Shustan) کو اطلاع دی جا چکی تھی۔چنانچہ انہوں نے فارن سروس کے ایک اعلیٰ افسر کو صاحبزادہ صاحب کی پیشوائی اور دیگر تمام ضروری انتظامات کے لئے مقرر کیا ہوا تھا۔خود وہ بلغراد سے ایک طویل فاصلہ پر صدر مملکت کے ہمراہ گئے ہوئے تھے۔یہ اعلیٰ افسر بذریعہ کار آپ کو ایک ہوٹل میں لے گئے اور یوگوسلاویہ کی مسلم آبادی کے بارے میں تفصیلی معلومات بہم پہنچائیں۔معلوم ہوا کہ ملک میں ۳۱ لاکھ مسلمان آباد ہیں اور ان کی سب سے بڑی آبادی سورا یا و ( Sarajevo) میں ہے۔بلغراد میں سلطان سلیمان اعظم قانونی کی ۹۲۷ بهش /۱۵۲۱ء کی تعمیر شدہ مسجد آج تک موجود ہے۔(شاہ ہنگری نے سلطان سلیمان کا سفیر قتل کر دیا تھا جس پر سلطان پیچیس رمضان ۹۲۷ ھ مطابق ۲۹ / اگست ۱۵۲۱ء کو چڑھائی کر کے بلغراد پر قبضہ کر لیا۔یہ مسجد جو اس فتح کی یادگار ہے اسی سال تعمیر کی گئی۔) یوگوسلاویہ کے اعلیٰ افسر کے ذریعہ صاحبزادہ صاحب کی ملاقات اس مسجد کے امام جناب حسین ہوزک صاحب (Husein Hodzic) سے ہوئی۔امام صاحب الا زہر کے تعلیم یافتہ تھے اور عربی، فارسی اور انگریزی بھی جانتے تھے۔وہ اور ان کی مصری اہلیہ نبیلہ نہایت تپاک سے ملے اور اسلامی اخوت کا نہایت عمدہ مظاہرہ کیا۔کہنے لگے کہ وہ احمد یہ جماعت کی خدمات سے خوب واقف ہیں اور انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ جماعت احمدیہ نے دنیا کے مختلف ممالک میں تبلیغی مراکز کھول رکھے ہیں اور احمدی عیسائیت کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔زغریب (Zagreb) میں ڈاکٹر سلیمان میسووک (Soleman Masovic) اور ان کے ذریعہ آصف صاحب اور مسٹر مرزا اور ان کے والد مسٹر مراد سے ملاقاتیں ہوئیں۔ڈاکٹر سلیمان صاحب بھی ترکی کے ماجد صاحب کی طرح احمدیت سے متعارف تھے اور مسجد